| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے بھیک مانگے تو وہ انگارہ مانگتا ہے اب چاہے کم کرے یا زیادہ ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی بلاسخت ضرورت بھیک مانگے بقدر حاجت مال رکھتا ہو زیادتی کے لیے مانگتا پھرے وہ گویا دوزخ کے انگارے جمع کررہا ہے،چونکہ یہ مال دوزخ میں جانے کا سبب ہے اسی لیے اسے انگارہ فرمایا۔اس حدیث سے آج کل کے عام پیشہ وربھکاریوں کو عبرت لینی چاہیے۔حال ہی میں راولپنڈی میں ایک بھکاری نے متروکہ مکان کے نیلام میں۴۵ ہزار روپے کی بولی دےکر مکان خریدا بھیک ہی مانگتا تھا۔افسوس ہے کہ آج مسلمانوں میں بھیک مانگنے کا مرض بہت زیادہ ہے،اس گناہ میں وہ بھی شریک ہیں جو ان موٹے مشٹنڈوں پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دیتے ہیں۔