۱؎ یہاں مانگنے سے مراد ذلت و خواری کا مانگنا ہے یعنی بھیک مانگنا لہذاباپ کا اولاد سے یا آقا کا غلام سے یا اس کے برعکس یا ان سے کچھ مانگنا جن سے مانگنے میں عار نہ ہو جائز ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت اور انعام الہیہ اور اخروی نعمتوں کی بھیک مانگنا بادشاہوں کے لیے فخروعزت ہے۔اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ بلاضرورت مانگنا ممنوع ہے،اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ ہے یا حرام۔حق یہ ہے کہ حرام ہے،ضرورت سوال میں بہت تفصیل ہے جو آئندہ آرہی ہے۔خیال رہے کہ زکوۃ واجب ہونے کا نصاب اور ہے زکوۃ لینے کی حرمت کا نصاب اورمگر سوال حرام ہونے کا نصاب کچھ اور ہی ہے جس کے پاس دو وقت کھانے کو ہو یا کمانے پر قادر ہو وہ بھیک نہ مانگے الا بما ھو یجیئی عن قریب۔
حدیث نمبر 63
روایت ہے حضرت قبیصہ ابن مخارق سے فرماتے ہیں کہ میں ایک قرض کا ضامن بن گیا تھا ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے لیے کچھ مانگنے کو حاضر ہوا ۲؎ تو حضور نے فرمایا ٹھہرو حتی کہ صدقہ آجائے تو ہم اس کا تمہارے لیے حکم دے دیں گے۳؎ پھر فرمایا اے قبیصہ تین شخصوں کے سواء کسی کو مانگنا جائز نہیں ایک وہ جوکسی قرض کا ضامن ہوگیا ہو اسے مانگنا جائز ہے حتی کہ بقدر قرض پالے پھر باز رہے ۴؎ ایک وہ جس پر آفت آجائے جو اس کا مال برباد کردے اسے مانگنا حلال ہے ۵؎ حتی کہ زندگانی کا قیام پائے یا فرمایا کہ زندگی کی درستی پائے ۶؎ اور ایک وہ جسے فاقہ پہنچ جائے حتی کہ اس کی قوم کے تین عقل والے اٹھ کر کہہ دیں کہ فلاں فاقہ کو پہنچا ہے تو اسے مانگنا حلال ہے ۷؎ حتی کہ زندگی کا قیام یا زندگی کی درستی پائے،اے قبیصہ ان کے سواء مانگنا حرام ہے کہ مانگنے والا حرام کھاتا ہے ۸؎(مسلم)
شرح
۱؎ حمالہ یعنی اس ضمانت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ دو قومیں دیت یا دوسرے مال قرض کی وجہ سے آپس میں لڑنے لگیں،کوئی ان میں صلح کرانے اور دفع شر کے لیے مقروض کا قرض یا منقول کی دیت اپنے ذمے لے لے یعنی دفع فساد یا صلح کرانے کے لیے مال کا ضامن بن جانا یا اپنے ذمہ لے لینا۔(مرقات و لمعات وغیرہ) ۲؎ تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال عطا فرمادیں جس سے میں وہ قرض چکا دوں یا دیت ادا کردوں۔ ۳؎ صدقہ سے مراد مال ظاہری جانوروں و پیداوار کی زکوۃ ہے جو حکومت اسلامیہ وصول کرتی تھی یا مال باطنی یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوۃ جو غنی صحابہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کرتے تھے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی خیرات کریں اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے خیرات قبول ہو،یعنی اے قبیصہ اتنا توقف کرو کہ زکوۃ وصول ہوجائے تو اس سے تمہارا زرِ ضمانت ادا کردیاجائیگا۔ ۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا ضامن اگرچہ مالداربھی ہو تو صدقہ مانگ سکتا ہے کیونکہ یہ مانگنا اپنے لیے نہیں بلکہ اس مقروض فقیر کے لیے ہے جو فقیر ہے جس کا یہ ضامن ہے،رب تعالٰی نے زکوۃ کے مصارف میں غارمین(مقروضوں)کا بھی ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہی مقروض ہیں۔ ۵؎ یعنی یہ شخص غنی تھا آفت ناگہانی نے مال برباد کرکے اسے فقیرکردیا اگرچہ تندرست ہے کمانے پر قادر ہے مگر کمانے تک کیا کھائے وہ اس وقت تک کے لیے مانگ سکتا ہے جب کچھ گزارہ کے لائق کمائے تو سوال سے باز آجائے۔ ۶؎ سدادٌ یا سدُّ سین کے فتح سے،بمعنی رکاوٹ و آڑ یا سِدٌسین کے کسرہ سے ہے،بمعنی درستی و اصلاح یعنی اتنا مال حاصل کرے جس سے فقروفاقہ رک کر زندگی درست ہوجائے۔غرضکہ بھیک مانگنا مردار جانور کی طرح ہے جس کا جائز و حلال ہونا سخت ضرورت پر ہے۔ ۷؎ یہ گواہی کی قید اس کے لیے ہے جس کے متعلق لوگوں کو شبہ ہوکہ یہ غنی ہے اور بلاضرورت مانگ رہا ہے۔قوم سے مراد اس کے حالات سے خبردار لوگ ہیں خواہ اس کی برادری کے ہوں یا آس پڑوس کے یعنی کم از کم تین واقف حال لوگ جنہیں غریبی امیری حاجت و غنا کی پہچان ہو وہ بتادیں کہ واقعی یہ فاقہ زدہ ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے اہل مدینہ قرض لینے اور سوال کرنے میں عار نہیں سمجھتے تھے ان کے وہ عادی تھے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عادتوں کو بدلنے کے لیے سوال پر تو یہ پابندیاں لگائیں۔مقروض کی نماز جنازہ خود نہ پڑھی دوسروں سے پڑھوا دی تاکہ عبرت پکڑیں اور قرض حتی الامکان نہ لیں۔ ۸؎ خیال رہے کہ تین کا یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں،ان تین کے علاوہ اور صورتیں بھی ہیں جن میں سوال درست ہوتا ہے جیسے وہ بے دست و پا جو کمانے پر قادر نہ ہو،وہ طالب علم جس نے اپنے کو طلب علم کے لیے وقف کردیا ہو اور لوگ توجہ نہ کرتے ہوں بغیر طلب نہ دیتے ہو۔مرقات نے فرمایا کہ خانقاہوں کے وہ مجاور جنہوں نے اپنے کو ریاضت و مجاہدات کے لیے حقیقی معنے میں وقف کردیا ہو ان کے لیے اُن ہی میں کا ایک سوال کرسکتا ہے،روٹیاں کپڑے جمع کرسکتا ہے،مگر خیال رہے کہ رب تعالٰی نیت سے خبردار ہے مانگنے کے لیے صوفی نہ بن جائے۔