Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
586 - 5479
حدیث نمبر 586
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس کا گناہ تھا ہی نہیں ۱؎ (ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)اور بیہقی نے فرمایا کہ اس حدیث میں نہرانی اکیلا ہے اور وہ مجہول الحال ہے ۲؎ اور شرح سنہ میں ابن مسعود سے موقوفًا روایت کی آپ نے فرمایا نادم ہونا توبہ ہے اور توبہ والا ایسا ہے کہ گویا گناہ کیا ہی نہیں ۳؎
شرح
۱؎ توبہ سے مراد سچی اور مقبول توبہ ہے جس میں تمام شرائط جواز و شرائط قبول جمع ہوں کہ حقوق العباد اور حقوق شریعت ادا کردیئے جائیں،پھر گزشتہ کوتاہی پر ندامت ہو اور آئندہ نہ کرنے کا عہد۔اس توبہ سے گناہ پر مطلقًا پکڑ نہ ہوگی بلکہ بعض صورتوں میں تو گناہ نیکیوں سے بدل جائیں گے۔حضرت رابعہ بصریہ سفیان ثوری اور فضیل ابن عیاض سے فرمایا کرتی تھیں کہ میرے گناہ تمہاری نیکیوں سے کہیں زیادہ ہیں،اگر میری توبہ سے یہ گناہ نیکیاں بن گئے تو پھر میری نیکیاں تمہاری نیکیوں سے بہت بڑھ جائیں گی۔(مرقات)خیال رہے کہ یہاں "کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ"سے انبیاء،اولیاء،ملائکہ خارج نہیں ہیں کیونکہ گنہگار توبہ کرکے ان جیسا نہیں ہوجاتا اگر اسے عذاب نہ بھی ہو مگر خجالت و شرمندگی تو ہوگی وہ حضرات ان سے بھی پاک ہیں۔یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو نہ معصوم ہوں نہ محفوظ مگر گناہ نہ کریں جیسے چھوٹے بچے اور دیوانہ مسلمان کہ تائب گنہگار توبہ کی برکت سے ان بے گناہوں کی طرح ہوجاتا ہے بے گناہی میں۔

۲؎ یعنی نہرانی کا پتہ نہ لگا کہ ثقہ تھا یا ضعیف لہذا یہ حدیث درجہ صحت کو نہ پہنچی،امام ابن حجر اور ملا علی قاری نے فرمایا کہ چونکہ یہ حدیث فضائل دعا و توبہ میں ہے لہذا اگر ضعیف بھی ہو تب بھی قبول ہے۔(مرقات)

۳؎  چونکہ گزشتہ پر ندامت توبہ کا رکن اعلیٰ ہے کہ اس پر باقی سارے ارکان مبنی ہیں اس لیے صرف ندامت کا ذکر فرمایا جو کسی کا حق مارنے پر نادم ہوگا تو حق ادا بھی کردے گا جو بے نمازی ہونے پر شرمندہ ہوگا وہ گزشتہ چھوٹی نمازیں قضا بھی کرلے گا لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں اگرچہ یہ حدیث موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے کہ یہ بات محض قیاس سے نہیں کہی جاسکتی۔
Flag Counter