Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
587 - 5479
باب 

باب ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  یعنی گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کاباب جس میں مختلف مضامین کی احادیث ہیں اکثر حدیثیں اﷲ کی رحمت اور بندے کے مایوس نہ ہونے کے متعلق ہیں۔
حدیث نمبر 587
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب اﷲ نے مخلوق پیدا فرمانے کا فیصلہ کیا۱؎ تو ایک تحریر لکھی جو رب کے پاس عرش کے اوپر ہے ۲؎  کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے اور ایک روایت میں غلبت ہے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس طرح کہ مخلوق کو پیدا فرمادیا یا پیدا فرمانے کی ابتداء کی یا موجودات کے ظہور کا ارادہ قریب کیا یا جب میثاق کے دن تمام روحوں کو پیدا کیا۔

۲؎  کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے اورلکھنے سے مراد لکھنے کا حکم دینا ہے فرشتوں کو یا قلم کو  ۔عرش کے اوپر سے مراد درجہ و مرتبہ میں اوپر ہے  نہ کہ جگہ میں کیونکہ لوح محفوظ عرش کے نیچے ہے نہ کہ اس کے اوپر ۔بعض علماء نے فرمایا کہ لوح محفوظ حضرت اسرافیل علیہ السلام کی پیشانی ہے کہ اس میں سارے حالات درج ہیں اور حضرت اسرافیل حاملین عرش فرشتوں کے سردار ہیں،اس کے متعلق اور بہت سے قول ہیں۔(مرقات وغیرہ)

۳؎ اس طرح کہ آثار غضب پر آثار رحمت غالب بھی ہیں اور زیادہ بھی ورنہ خود رحمت و غضب رب تعالٰی کی صفتیں ہیں،وہاں زیادتی کمی اور غالبت مغلوبیت ناممکن ہے۔مطلب یہ ہے کہ میری رحمت کا ظہور بمقابلہ غضب بہت زیادہ ہوگا۔چنانچہ رب تعالٰی کی رحمت تمام مخلوق کو پہنچتی ہے اور غضب کسی کسی کو کفار بھی رب کی رحمت ہی سے روزی پاتے ہیں،بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں۔چنانچہ رحمت کے بارے میں خودفرماتا:"وَ رَحْمَتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡءٍ"اور عذاب کے بارے میں فرماتاہے:" عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُ"۔(از لمعات مع زیادۃ)
Flag Counter