۱؎ یعنی اس حال میں مرے۔یہاں اﷲ سے ملنے سے مراد دنیا سے جانا ہے نہ کہ قیامت میں اٹھنا کہ مرتے ہی سب ایمان لے آتے ہیں،پھر قیامت میں مشرک کون ہوگا،چونکہ بعدموت دنیا کے سارے تعلقات ختم ہوجاتے ہیں،بندہ کا تعلق صرف رب تعالٰی سے رہ جاتا ہے اسی لیے موت کو اﷲ سے ملنا فرمایا گیا۔
۲؎ اس طرح کہ کسی کو خدا کا شریک نہ مانتا ہو،چونکہ عرب میں عام طور پر کفار مشرکین ہی تھے اس لیے شرک کا ذکر فرمایا ورنہ موحد کافر کا بھی یہ ہی حال ہے۔خیال رہے کہ مشرک اپنے معبودوں کو خدا کے برابر ضرور مانتے ہیں کسی کو خدا کی اولاد،کسی کو خدا کا مددگار،کسی کو خدا کے مقابل اپنا کار ساز مانتے ہیں اسی لیے وہ قیامت میں اپنے شرکاء سے کہیں گے"اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"علم القرآن "میں ملاحظہ فرمائیے،رب تعالٰی فرماتاہے:"بِرَبِّہِمۡ یَعْدِلُوۡنَ"۔
۳؎ اگر چاہے تو بخش دے یا تو بالکل ہی بخش دے یا کچھ تنبیہ فرما کر یا کچھ سز ادے کر ،رب تعالٰی فرمایاہے:"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"لہذا یہ حدیث نہ تو قرآنی آیات کے مخالف ہے نہ عذاب کی حدیثوں کے اور نہ اس میں مسلمانوں کو گناہ پر دلیر کیا گیا ہے۔