| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی اپنے بندے کو بخشتا ہے جب تک کہ آڑ نہ واقع ہو ۱؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ آڑ کیا ہے فرمایا یہ کہ کوئی شخص شرک کرتے ہوئے مرجائے ۲؎ ان تینوں حدیثوں کو احمد نے روایت کیا اوربیہقی نے آخری حدیث کتاب البعث والنشور میں روایت کی۔
شرح
۱؎ یعنی وہ واقعہ ہوجائے جو بندہ اور رب تعالٰی کی رحمت کے درمیان آڑ ہے دوئی کی آڑ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثْنَیۡنِ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وّٰحِدٌ"۔ ۲؎ شرک سے مراد کفر ہے کہ کفر پرموت واقع ہوجانا رحمتِ الٰہی سے بڑی مضبوط آڑ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ کافر کی ہر توبہ موقوف رہتی ہے،اگر ایمان لاکر مرا تمام گزشتہ توبہ قبول ہوگئیں،اگر کفر پر ہی مرگیا تو ساری توبہ بیکار گئیں۔حق یہ ہے کہ کفار کی بعض دعائیں قبول ہوجاتی ہیں،شیطان نے درازیٔ عمر کی دعا مانگی جو کچھ ترمیم سے قبول ہوگئی۔