Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
583 - 5479
حدیث نمبر 583
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ مجھے اس آیت کے عوض ساری دنیا مل جاتی ۱؎ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ناامید نہ ہوؤ ،الخ ۲؎ ایک شخص بولا تو جو شرک کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر فرمایا یقینًا جو شرک کرے تین بار فرمایا(یعنی اس کی توبہ بھی قبول ہوگی۳؎
شرح
۱؎ پھر میں اس دنیا سے لذات و خیرات سب کچھ حاصل کرتا۔

۲؎ اس آیت میں عبادی سے مراد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے غلام ہیں اور زیادتی سے مراد گناہ کرتے رہنا ہے،انہی سے مغفرت کا وعدہ ہے کہ شرک و کفر کی معافی نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"۔

۳؎ یعنی شرک و کفر بھی بخش دیا جائے گا بشرطیکہ بندہ اس سے توبہ کرکے مسلمان ہوجائے،تب بھی بخشا جاسکتا ہے لہذا یہ حدیث مذکورہ آیت کے خلاف نہیں۔

حکایت:حضرت وحشی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ اسلام میں شرک،قتل،زنا بہت بڑے بڑے گناہ ہیں اور میں نے یہ تینوں کئے ہیں،میری بخشش کیسے ہوگی،تب یہ آیت کریمہ آئی"اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صٰلِحًا"وحشی بولے کہ مغفرت کی یہ شرطیں بہت سخت ہیں تو یہ نیک اعمال وغیرہ مجھ سے کیسے ہوں گے تب یہ آیت سنائی گئی"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"وحشی بولے اب بھی میری تسلی نہیں ہوتی نہ معلوم میری بخشش ہوگی یا نہیں تب یہ آیت نازل ہوئی"قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا"الخ تب وحشی بولے بس بس مجھے کافی ہے کافی ہے،صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا یہ بشارتیں صرف وحشی کے لیے ہیں فرمایا نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے۔(تفسیرمعالم التنزیل و مرقات)غرضکہ یہ آیت بہت ہی امید افزاء ہے
Flag Counter