۱؎ گناہ و غفلتیں اس پر طاری ہوتی رہتی ہیں،ہمیشہ نیکیاں ہی نہ کرتا ہوکیونکہ ہمیشہ نیکیاں کرنے والا کبھی تکبر و شیخی میں پھنس جاتا ہےاور گناہ میں پھنسا ہوا اکثر شرمندہ رہتا ہے۔اس شرح سے معلوم ہوا کہ اس قاعدے سے زیادہ حضرات انبیاء و خاص اولیاء علیحدہ ہیں کیونکہ ان میں کبھی غرور پیدا ہوتا ہی نہیں لہذا حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ گنہگار بندے انبیاءواولیاء سے زیادہ پیارے ہوں،یہاں ان سے مقابلہ ہے جو نیکیوں پر اِترا جائیں،عجز پیدا کرنے والا گناہ فخر پیدا کرنے والی نیکی سے افضل ہے۔
۲؎ ہر طرف کی توبہ گناہ سے اطاعت کی طرف،غفلت سے بیداری کی طرف،غیبت سے حضور کی طرف اور معصیت سے مصیبت کی طرف لوٹتا ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی گناہوں سے ناراض ہے نہ کہ گنہگار سے، گنہگار سے تو توبہ کرنے پر بہت راضی ہو جاتا ہے۔عشاق کہتے ہیں کہ بمقابلہ نیکوں کے بروں پر زیادہ کرم ہے،ماں بیمار لاچار بچہ پرزیادہ مہربان ہوتی ہے،نکمے بیٹے کے لیے کماؤ بیٹے سے لیتی رہتی ہے اور کماؤ سے نکمے کو دلواتی رہتی ہے،ہم نکمے بندے ہیں ہمارے لیے اپنے حبیب سے فرماتاہے:"وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"اے محبوب اپنی کمائی سے ان نکموں کو کچھ دیتے رہو انہیں جھڑکو نہیں۔