Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
581 - 5479
حدیث نمبر 581
حضرت حارث ابن سوید سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ  ابن مسعود نے  دو حدیثیں سنائیں ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور  دوسری  اپنی طرف سے  ۲؎  فرمایا کہ مؤمن اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے گویا کہ وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے  ڈر  رہا  ہے کہ اس پر گر جائے ۳؎  اور بدکار اپنے اپنے گناہوں کو اس مکھی طرح سمجھتاہے جو اس کی ناک پر گذرے تو یوں کردے یعنی اپنے ہاتھ سے اسے اڑادے ۴؎ پھرفرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی اپنے مؤمن بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ۵؎  جوکسی جانوروں والی ہلاکت کی زمین میں اترے  اس کے ساتھ سواری ہے جس پر اس کا کھانا پانی ہے اس نے سر رکھا کچھ سوگیا ۶؎ جاگا  تو اس کی سواری جاچکی تھی اسے بہت ڈھونڈ رہا تھا حتی کہ جب اس پر دھوپ یا پیاس یا  جو اللہ نے چاہا غالب آگئی ۷؎ تو بولا کہ میں اپنی اس ہی جگہ لوٹ جاؤں جہاں تھا ۸؎ وہاں سوجاؤں حتی کہ مرجاؤں اپنے بازؤں پر مرنے کے لئے سر رکھ دیا ۹؎ پھر جاگا تو اس کی سواری اس کے پاس تھی جس پر اس کا توشہ پانی تھا ۱۰؎  اللہ تعالٰی مؤمن بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتاہے جویہ سواری سے خوش ہو ۱۱؎مسلم نے صرف وہ  ہی روایت نقل کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ابن مسعود سے مرفوع ہے اور بخاری نے ابن مسعود پر موقوف حدیث بھی روایت کی ہے ۱۲؎
شرح
۱؎   آپ جلیل القدر تابعی ہیں،اہل کوفہ سے ہیں،کسی نے حضرت امام احمد بن حنبل سے آپ کے متعلق پوچھا  تو  آپ نے فرمایا ان کی خوبیاں بیان سے بالا ہیں،حضرت عبداللہ بن زبیر کے زمانہ میں فوت ہوئے۔

۲؎  یعنی ایک حدیث  مرفوع  اور  دوسری حدیث موقوف بیان فرمائی  جو خود  ان  کا  اپنا  قول ہے۔

۳؎ یعنی مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ وہ گناہِ صغیرہ کو بھی ہلکا نہیں جانتا وہ سمجھتا ہے کہ چھوٹی چنگاری بھی گھر جلاسکتی ہے اس لئے وہ ان کے کرلینے پر بھی جرأت نہیں کرتا اور اگر ہوجائیں توفورًا  توبہ کرلیتا ہے،گناہوں سے خوف کمال ایمان کی علامت ہے۔

۴؎  یعنی چھوٹے کیا بڑے گناہوں کو بھی ہلکا جانتا ہے،کہتا ہے کہ میں نے گناہ کرلیا تو کیا ہوارب غفور رحیم ہے بخش دے گا۔یہ خیال امید نہیں بلکہ خدا تعالٰی سے بے خوفی ہے جو کفر تک پہنچادیتی ہے،انسان پہلے چھوٹے گناہ کو ہلکا جانتا ہے،پھر بڑے گناہوں کو،پھرکفروشرک کو بھی معمولی چیز سمجھنے لگتا ہے۔

۵؎  یہاں خوشی سے مراد  رضا ہے جیساکہ پہلے عرض کیاگیا۔حضرت ابن مسعود نے پہلے تو گناہ کو ہلکا جاننے کی برائی بیان فرمائی ،پھر یہ حدیث سنائی تاکہ بندہ  ہر چھوٹے  گناہ  پر بھی توبہ کرے  اسے حقیر نہ جانے،رب تعالٰی بندہ کی ہر توبہ خواہ گناہ  صغیرہ سے ہو یا کبیرہ بہت ہی راضی و خوش ہوتاہے،رب تعالٰی کو راضی کرنا عبادت ہے تو ہر گناہ سے توبہ کرنا بھی اعلی درجہ کی عبادت ہے۔

۶؎  یعنی بہت معمولی سا سویا،سواری کی بھی فکر تھی  اور جنگلی درندوں  کا بھی اندیشہ۔دنیا  درندوں  والا جنگل ہے،نفس سواری جس پر ہمارا ہر طرح  کا  روحانی  سامان ہے،یہاں غافل ہوکر سوناخطرناک ہے یہ محض تمثیل ہے۔

۷؎  او ماشاءالله یا تو  راوی کا قول  اور او تردد و شک کے لئے ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا تو گرمی و پیاس  کا ذکر  فرمایا  اور یا ماشاءالله فرمایا  اور  یا خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے اور اَو بمعنی بلکہ یعنی صرف بھوک و پیاس ہی غالب  نہ  آئی  بلکہ  تمام وہ مصیبتیں،فکریں،خوف و غم بھی غالب  آگئے  جو رب نے چاہے۔

۸؎ شاید وہاں سواری لوٹ آئی ہو یالوٹ آئے،کیونکہ وہ جگہ اس نے جانی پہچانی ہے،اگر نہ آئی تو موت تو آہی جائے گی خلاصہ یہ کہ یاسواری پاؤنگا یامرجاؤنگا۔

۹؎  اب بھی اہل عرب جب ریگستان میں پھنس جائیں،تو زندگی سے ناامید ہو کر اس طرح موت کی انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں ہی جان نکل جاتی ہے یہاں وہ ہی نقشہ کھینچا جارہا ہے۔

 ۱۰؎ یہاں جاگنے سے مراد سر اٹھا کر دیکھنا ہے،ورنہ ایسی حالت میں نیند کہا آتی ہے اور ممکن ہے کہ جاگنے سے حقیقتًا جاگنا ہی مراد ہو اور اتفاقًا اونگھ آگئی ہو،بہرحال یہ ایک تمثیل ہے جس میں یاس کے بعد آس کا نہایت بہترین نقشہ کھینچ کر پیش کیا گیا۔

۱۱؎ یعنی جیسی خوشی اس مایوس بندے کو اس آس پوری ہونے پر ہوسکتی ہے جس نے جان و مال سب کچھ کھو کر سب کچھ پالیا اس سے زیادہ خوشی رب تعالٰی کو اپنے کھوئے ہوئے بندے کے واپس آنے پرہوتی ہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ روح انسان مسافر ہے بدن اس کی سواری جس پر اس کے اعمال کا سامان ہے،دنیا خطرناک جنگل ہے،یہاں کی غفلت اس مسافر کا سوجانا ہے جب روح غافل ہوکر جاگی تو دیکھا کہ بدن نفسانی خواہشات میں گم ہوچکا تھا،روح کے قبضہ سے نکل چکا تھا،روح نے بہت مشقت سے اسے واپس کرنا چاہا مگر وہ نہ لوٹا مایوس ہو کر روح کو اپنی موت کا یقین ہوگیااور اس نے سمجھ لیا کہ اب میں عذاب دائمی میں گرفتار ہوتی ہوں کہ اچانک رحمت الٰہی نے دستگیری کی اور گم شدہ جسم و نفس کی توفیق خداوندی نے دستگیری کی، روح نے اپنا مقصد پالیا،یا اس کے بعد اس کی آس پوری ہوگئی ایسی روح بہت مبارک ہے۔(مرقات)

۱۲؎ غرضکہ اس حدیث کا جزء مرفوع تو متفق علیہ ہے اور جزءموقوف مفردات بخاری سے ہے پوری حدیث صحیح ہے۔
Flag Counter