| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں عرض کرتے تھے الٰہی مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکیاں کریں اور خوش ہوجائیں اور گناہ کریں تو معافی مانگ لیں ۱؎(ابن ماجہ)اور بیہقی نے دعوات کبیر میں۔
شرح
۱؎ سبحان الله! کیسی پیاری دعا ہے یعنی مجھے اس جماعت سے بنا جو اپنی نیکی پر فخر نہیں کرتے بلکہ توفیق خیر ملنے پر تیرا شکر کرتے ہیں اور گناہوں پر لاپرواہی نہیں کرتے بلکہ اس دھبہ کو فورًا توبہ کے پانی سے دھو ڈالتے ہیں۔رب تعالٰی حضور کے صدقہ سے یہ صفتیں ہم کو بھی نصیب کرے آمین،فخر کی خوشی گناہ ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیۡنَ"اور شکرکی خوشی عبادت ہے، رب تعالٰی فرماتاہے:"فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا" یہاں شکر کی خوشی مراد ہے۔