| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم اس فرمان کو ایک مجلس میں سو بار شمار کرلیتے تھے کہ عرض کرتے تھے یا رب مجھے بخش دے میری توبہ قبول فرما یقینًا تو توبہ قبول فرمانے والا ہے ۱؎(احمد،ترمذی،ابواؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جگہ کام کے لیے تشریف فرما ہوتے تو تھوڑے تھوڑے وقفہ سے یہ کلمات پڑھتے تھے اور اس کثرت سے پڑھتے تھے کہ اٹھنے سے پہلے سو بار تک فرمالیتے تھے،یہ تو عام مجالس پاک کا ذکر ہے خصوصی عبادات کی مجلسوں کا کیا پوچھنا۔مغفرت و توبہ کا فرق پہلے عرض کیا گیا،نیز یہ بھی کہ یہ کلمات ہماری تعلیم کے لیے ہیں،نیز ان کا پڑھنا عبادت اورحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ درجہ کے عابد ہیں لہذا یہ حدیث عصمت انبیاء کے خلاف نہیں۔