Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
576 - 5479
حدیث نمبر 576
روایت ہے حضرت بلال بن یسار ابن زید سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو یہ پڑھا کرے معافی مانگتا ہوں اس اﷲ سے جس کے سواء کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے قائم رکھنے والا ہے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں تو اس کی بخشش کردی جائے گی اگرچہ وہ جہاد سے بھاگا ہو ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد)لیکن ابوداؤد کے نزدیک راوی ہلال ابن یسار ہیں اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۳؎
شرح
۱؎ غلام رسول اﷲ ہونا حضرت زید کی صفت ہے نہ کہ بلال کی اور یہ زید ابن حارثہ نہیں ہیں بلکہ یہ زید ابن  بولیٰ نوبی  ہیں جن کی کنیت ابو یسار ہے،زید تو صحابی ہیں مگر ان کے بیٹے یسار اور پوتے بلال وغیرہ تابعی ہیں،ان بلال سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے جیساکہ ابن حجر نے تقریب میں اور ملا علی قاری نے مرقات میں فرمایا۔

۲؎ یعنی جہاد میں دشمن کے مقابلہ سے بزدلی کی بنا پر بھاگ جانا بدترین گناہ ہے مگر اس استغفار کی برکت سے ان شاءاﷲ وہ بھی معاف ہوجائے گا جیسے دواؤں کی جڑیاں بوٹیاں مختلف تاثیریں رکھتی ہیں کوئی معمولی بیماری میں مفید ہوتی ہے،کوئی سخت خطرناک بیماری میں ایسی روحانی بیماریوں کے لیے دعاؤں کے الفاظ مختلف تاثیر رکھتے ہیں یہ استغفار بدترین گناہوں کی بخشش کے لیے مفید ہے مگر وہ تاثیریں طبیب کو معلوم ہوتی ہیں اور یہ تاثیریں حبیب کو معلوم ہیں ہم،ان سے بے خبر ہیں مگر علماء فرماتے ہیں کہ توبہ سچے دل سے ہو تب اس کی یہ تاثیریں ہیں کہ توبہ کے وقت آئندہ گناہ سے بچنے کا پورا ارادہ ہو،گناہ پر قائم رہتے ہوئے منہ سے توبہ توبہ بول دینا ایک طرح کا مذاق ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ بعض وقت جہاد سے بھاگ جانا جائز بھی ہوتا ہے جب کہ کفار کی یلغار بہت ہی زیادہ ہوجائے اور اب ٹھہرنا ہلاکت ہی ہو اس صورت میں ڈٹا رہنا جان دے دینا بہت ثواب ہے مگر بھاگ جانا بھی گناہ نہیں اورکبھی بھاگنا جنگی چال ہوتی ہےکہ یہاں سے ہٹ کر مضبوط مرکز پر پہنچیں پھر وہاں جم کرجنگ کریں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ"یہ بھاگنا ثواب ہے نہ بھاگنا گناہ اور بلاوجہ بزدلی سے چھوڑکر بھاگ جانا سخت گناہ،وہ ہی یہاں مراد ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس پرکوئی اعتراض نہیں۔

۳؎ یعنی بلال کے نام میں اختلاف ہوگیا،بعض محدثین ہلال ہ سے فرماتے ہیں،بعض بلال ب سے مگر ب سے ہی زیادہ مشہور ہے۔حافظ منذری نے فرمایا کہ یہ حدیث بہت جید ہے،اس کی اسناد متصل ہے اوراس میں کوئی راوی ضعیف نہیں اور بہت طرق سے مروی ہے۔واﷲ اعلم!
Flag Counter