۱؎ یعنی تقویٰ مصدر مجہول ہے اور اپنے مفعول کی طرف منسوب۔معنے یہ ہیں کہ میں اس لائق ہوں کہ ساری خلق مجھ سے ڈرے۔خیال رہے کہ ڈر بمعنی ہیبت ساری مخلوق کو ہے،انبیائے کرام،اولیاء،اﷲ،عام مؤمنین، خاص صالحین کے دل میں رب تعالٰی کی ہیبت بقدر قرب ہے جس قدر رب سے قرب زیادہ اسی قدر اس کی ہیبت زیادہ مگر خوف عذاب صرف گنہگاروں کو ہے اور خوف عقاب کفار کو لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ"کہ وہاں خوف عذاب کی نفی ہے اور یہاں ہیبت الٰہی کا ثبوت ہے۔
۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ خوف خدا بہت بڑی نیکی ہے جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"لہذا بڑے سے بڑا مجرم بھی میرے خوف کی وجہ سے بخش دیا جائے گا۔