Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
574 - 5479
حدیث نمبر 574
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمایا وہ تقویٰ اور بخشش والا ہے حضور نے فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے کہ میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ۱؎ جو مجھ سے ڈرے گا تو میں اس لائق ہوں کہ اسے بخش دوں ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ یعنی تقویٰ مصدر مجہول ہے اور اپنے مفعول کی طرف منسوب۔معنے یہ ہیں کہ میں اس لائق ہوں کہ ساری خلق مجھ سے ڈرے۔خیال رہے کہ ڈر بمعنی ہیبت ساری مخلوق کو ہے،انبیائے کرام،اولیاء،اﷲ،عام مؤمنین، خاص صالحین کے دل میں رب تعالٰی کی ہیبت بقدر قرب ہے جس قدر رب سے قرب زیادہ اسی قدر اس کی ہیبت زیادہ مگر خوف عذاب صرف گنہگاروں کو ہے اور خوف عقاب کفار کو لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ"کہ وہاں خوف عذاب کی نفی ہے اور یہاں ہیبت الٰہی کا ثبوت ہے۔

۲؎  خلاصہ یہ ہے کہ خوف خدا بہت بڑی نیکی ہے جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"لہذا بڑے سے بڑا مجرم بھی میرے خوف کی وجہ سے بخش دیا جائے گا۔
Flag Counter