| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتاہے اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو سواء اس کے جسے میں ہدایت دوں لہذا مجھ سے ہدایت مانگو تمہیں ہدایت دوں گا ۱؎ اور تم سب فقیر ہو سواء اس کے جسے میں غنی کردوں لہذا مجھ سے مانگو میں تمہیں روزی دوں گا ۲؎ اور تم سب مجرم ہو سواء اس کے جسے میں سلامت رکھوں تو تم میں سے جو یہ جان لے کہ میں بخش دینے پر قادر ہوں پھر مجھ سے معافی مانگے تو میں اسے بخش دوں گا۳؎ اور پرواہ بھی نہ کروں گا اور اگرتمہارے اگلے پچھلے،زندے مردے، ترو خشک میرے بندوں میں نیک ترین بندے کے دل پر ہوجائیں۴؎ تو یہ ان کی نیکی میرے ملک میں مچھر کے برابر بڑھائے گی نہیں ۵؎ اور اگر تمہارے اگلے پچھلے،زندے مردے،تروخشک میرے بندوں میں سے بدبخت ترین دل پرمتفق ہو جائیں تو ان کے یہ جرم میرے ملک سے مچھر کے پر برابر کم نہ کریں گے ۶؎ اور اگر تمہارے پچھلے زندے مردے،تر و خشک ایک میدان میں جمع ہوں اور پھر تم میں سے ہر شخص اپنی انتہائی تمنا آرزو مجھ سے مانگے ۷؎ پھر میں ہر منگتے کو دے دوں تو یہ میرے ملک کے مقابل ایسا ہی کم و تھوڑا ہوگا جیسے تم میں سے کوئی دریا پر گزرے اس میں سوئی ڈبوئے پھر اسے اٹھائے ۸؎ یہ اس لیے ہے کہ میں داتا ہوں ۹؎ بہت دینے والا جو چاہتا ہوں کرتا ہوں ۱۰؎ میری عطا صرف فرمادینا ہے اور میرا عذاب صرف فرمادینا ہے،میرا حکم کسی شئے کے متعلق یہ ہے کہ جب کچھ چاہتا ہوں فرمادیتا ہوں ہوجا وہ ہوجاتی ہے ۱۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یہ حدیث قدسی اس آیت کی شرح ہے"فَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ الْخٰسِرِیۡنَ"۔اس حدیث میں بتایا گیا کہ رب تعالٰی کی بڑی نعمت ہدایت ہے جسے میسر ہو،انسان کو چاہئیے کہ ہدایت کی دعا ضرور مانگے۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ انبیاءواولیاء نے بھی رب تعالٰی ہی سے ہدایت لی ہے مگر وہ حضرات بحکم الٰہی ہمیں ہدایت دیتے ہیں سورج نے رب ہی سے نور لیا مگر زمین کو نور دیتاہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ"اے محبوب تم سیدھے راہ کی ہدایت دیتے ہو۔ ۲؎ معلوم ہوا کہ رب تعالٰی نے بعض بندوں کو غنی فرمایا ایسا غنی کہ وہ دوسروں کو بھی بحکم پروردگار غنی کردیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔ ۳؎ سبحان اﷲ! کیا ہمت افروز امید افزا کلام ہے بندہ اپنے گناہ سے رب کی رحمت کو زیادہ جانے اور اپنے آپ کو اپنے اعمال کو رب کی قدرت میں مانے ان شاءاﷲ بخشا جائے گا۔ ۴؎ کسی نہایت نیک پرہیزگار متقی بندے کو چن لو پھرغورکرو کہ اگر سارے انسان اس نیک آدمی کی طرح ہوجائیں کہ کوئی شخص کوئی گناہ ہی نہ کرے تو اس سے میرے خزانے بڑھتے نہیں۔ ۵؎ یعنی دنیاوی بادشاہوں کے خزانے رعایا کی نیکی سے بھرتے ہیں،اگر رعایا باغی ہوکر ٹیکس دینے سے انکاری ہوجائے تو بادشاہ کے خزانے خالی رہ جا ئیں،ہمارے خزانوں کا یہ حال نہیں تمام جہان کی نیکیوں سے ہمارے خزانے میں مچھر کے پر برابر زیادتی نہیں ہوتی مخلوق کی نیکی سے خود ان کا اپنا بھلا ہے ہم بے پرواہ ہیں۔ ۶؎ یعنی تم کسی بدترین شخص کو سوچو جیسے ابلیس اورغور کرو کہ اگر تمام مخلوق اس فاسق ابلیس کی طرح فاسق و فاجروگنہگار ہوجائے تو اس کے گناہوں سے میرا کچھ بگڑتا نہیں خود ان کا اپنا بگڑتا ہے۔خیال رہے کہ یہ تمام فرضی صورتیں ہیں جو سمجھانے کے لیے پیش کی گئی ہیں ورنہ فرشتے،انبیاء اوربعض اولیاء وہ ہیں جن سے گناہ سرزد ہوسکتے ہی نہیں لہذا یہ حدیث عصمت انبیاء کے خلاف نہیں جیسے رب تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اے محبوب فرمادو اگر خدا کے بیٹا ہوتا تو پہلے اسے میں پوجتا نہ خدا کے بیٹا ہوسکتا ہے نہ حضور اس کی پوجا کرسکتے ہیں۔ ۷؎ أُمْنِیَّتُہٗ ہمزہ کے پیش اور ی کے شد سے ہے،بمعنی خواہش و آرزو،اس کی جمع منی یا امانی ہے،یہاں ممکن و جائز آرزو مراد ہے،کبھی ناجائز و نفسانی خواہش کو امنیہ کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"تِلْکَ اَمَانِیُّہُم" ۸؎ یہاں نقص بمعنی کم ہونا ہے نہ کہ بمعنی کم کرنا یہ ترجمہ نہایت صحیح ہے یعنی اگر تمام مخلوق کی خواہشات پوری کردی جائیں اور ان کی تمنائیں دے دی جائیں تو یہ عطیہ ہمارے خزانوں کے سامنے ایسا ہوگا جیسے بھیگی سوئی کی تری سمندر کے مقابل،رب تعالٰی فرماتا ہے کہ ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں ہم اندازے سے ہی اتارتے ہیں،یہ نسبت بھی سمجھانے کے لیے ہے ورنہ محدود متناہی کو غیرمحدود لامتناہی سے نسبت ہی کیسی۔ ۹؎ خیال رہے کہ سخی وہ جو خود بھی کھائے دوسروں کو بھی کھلائے مگر جوّاد وہ ہے جو دوسروں کو کھلائے خود نہ کھائے۔سخی کا مقابل بخیل ہے اور جواد کا مقابل ممسک۔ماجد مجد سے بنا،بمعنی وسیع العطاءجس کی عطاءمخلوق کی وہم و گمان سے وراء ہو۔ ۱۰؎ یعنی جو میں چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں جو مخلوق چاہتی ہے وہ نہیں کرتا کیونکہ مخلوق میرے تابع ہے نہ میں مخلوق کے تابع۔(مرقات)خیال ہے کہ جن بندوں نے اپنی مرضی رب کی مرضی میں گم کردی پھر جو وہ چاہتے ہیں وہ رب کرتا ہے کیونکہ وہ چاہتے ہی وہ ہیں جو رب چاہے اور رب چاہتا وہ ہے جو یہ بندہ چاہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"۔رب تعالٰی حدیث کی فہم صحیح نصیب کرے۔ ۱۱؎ یہاں ہوجا فرمانے سے مراد ہے اس کا ارادہ کرلینا یعنی جس چیز کا ارادہ فرمالیتا ہوں وہ ہوجاتی ہے،ارادہ کے سواءکسی اور عمل کی مجھے ضرورت نہیں لہذا اس پر آریوں کا یہ اعتراض نہیں کہ معدوم چیز سے کہنا کہ ہو جا عقل کے خلاف ہے،معدوم چیز سننے کے قابل نہیں پھر ہوجا کس سے فرمایا جاتا ہے۔