Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
572 - 5479
حدیث نمبر 572
روایت ہے حضرت ابن عباس سے اﷲ تعالٰی کے اس قول کے متعلق کہ الا اللمم  ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الٰہی اگر تو بخشے تو بڑے گناہ بخش دے گناہ صغیرہ کس بندے نے نہیں کئے ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۳؎
شرح
۱؎ آیت کریمہ یہ ہے"اَلَّذِیۡنَ یَجْتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوٰحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ"جو لوگ گناہ کبیرہ اور بے حیائیوں سے بچے رہتے ہیں بجز چھوٹے گناہوں کے۔علماء فرماتے ہیں کہ جن گناہوں پر حد شرعی مقرر ہے وہ کبیرہ ہیں اور جن پر کوئی وعید نازل ہوئی وہ فاحشہ ہے اور جن پر ان دونوں میں سے کچھ نہیں وارد ہوا صرف ممانعت ہے وہ لمم یعنی گناہ صغیرہ ہے۔

۲؎  یہ شعر امیہ ابن ابی الصلت کا ہے اگرچہ امیہ زمانہ جاہلیت کے شعراء میں سے ہے مگر اس کے اشعار بہت حکمت و معرفت کے ہیں اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اشعار سنتے بھی تھے اور خود پڑھتے بھی تھے۔چنانچہ یہ شعر حضور انور نے بطور دعا پڑھا۔مطلب یہ ہے کہ اے مولیٰ تو تو کریم ہے اپنی بخشش میں گناہ صغیرہ کی قید نہ لگا،تو چاہے تو بڑے بڑے گناہ بھی بخش دے،گناہ صغیرہ تو سارے ہی لوگ کرتے رہتے ہیں مولیٰ صغیرہ بھی بخش اور کبیرہ بھی،بتا کہ گناہ کبیرہ والے کس دروازے پر جائیں،ان کا ٹھکانہ بھی تیرا ہی دروازہ ہے۔

۳؎ یعنی یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے جن میں سے بعض اسنادیں صحیح ہیں،بعض غریب لہذا متن حدیث صحیح بھی ہیں،حسن بھی اور غریب بھی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم شعر سنتے اور پسند کرتے بھی تھے اور خود بھی پڑھتے تھے۔رب جو فرماتاہے:"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"وہاں شعر بنانا اور شعر گا کر پڑھنا مراد ہے۔(مرقات)یا شعر سے مراد جھوٹا کلام ہے اس کی بحث ہماری کتاب "جاءالحق"میں ملاحظہ فرمایئے۔
Flag Counter