Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
571 - 5479
حدیث نمبر 571
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے سنا کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا اﷲ کی رحمت سے نا امید نہ ہو ۲؎ اﷲ تعالٰی سارے گناہ بخش دے گا اور پرواہ بھی نہ کرے گا ۳؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے اور شرح سنہ میں پڑھتے تھے کی بجائے فرماتے تھے،ہے۔
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابیہ انصاریہ ہیں، یزید ابن سکن کی بیٹی ہیں،بڑی عاقلہ بہادرتھیں،غزوہ تبوک میں حاضرتھیں، چوب خیمہ سے نو کفار کو قتل کیا،آپ کے حالات زندگی پہلی جلد میں بیان ہوئے۔(اشعہ)

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ قول حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپناہے اور عباد سے مراد غلام مسلمان ہیں۔(اشعہ)یعنی اے میرے غلام اب تو جنہوں نے گناہ کرلیے رب کی رحمت سے نا امید نہ ہو،رب تمام گناہ بخش دے گا کیونکہ تم مسلمان ہو۔یہاں یُقْرَأ بمعنی یَقُوْلُ ہے جیساکہ شرح سنہ کی روایت سے ثابت ہے کہ وہاں یَقُوْلُ ہے کہ آیت کریمہ"قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا"الخ میں بھی محققین علماء کا یہ ہی قول ہے کہ وہاں بھی عبادی سے حضور کے بندے و غلام مراد ہیں کیونکہ کفار کے گناہ ناقابل معافی ہیں اور وہ رحمت الٰہی سے نا امید کردیئے گئے ہیں"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"۔مولانا فرماتے ہیں شعر

بندہ خود خواند احمد در رشاد		جملہ عالم راجواں قل یا عباد

اس سے معلوم ہوا کہ عبدالرسول،عبدالنبی کہہ سکتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ"۔

۳؎  لَایُبَالِیْ سےبھی معلوم ہو رہاہےکہ یہ کلام حدیث ہے قرآنی  آیت نہیں،قرآن کریم میں لایبالی نہیں ہے۔(مرقات)یعنی تمام گنہگار مسلمان کو بخش دینے میں رب کو پرواہ بھی نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ و حقوق العبادبھی لائق بخشش ہیں بجز کفر ہر گناہ کی مغفرت ہوسکتی ہے۔
Flag Counter