Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
570 - 5479
حدیث نمبر 570
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بنی اسرائیل میں دو محبت والے دوست تھے ۱؎ جن میں سے ایک تو عبادت میں کوشاں تھا اور دوسرا کہتے ہیں گنہگار تھا ۲؎ عابد کہنے لگا کہ ان کاموں سے باز آ جن میں تو پھنسا ہے وہ کہنے لگا مجھے میرے رب پر چھوڑ دے۳؎ ایک دن عابد نے اسے ایسے گناہ پر پایا جسے اس نے بہت ہی بڑا جانا تو بولا باز آجا وہ بولا مجھے میرے رب پر چھوڑ کیا تو میرا داروغہ مقرر ہوا ہے۴؎ یہ بولا اﷲ  کی قسم تجھے رب  نہ تو کبھی بخشے اور  نہ کبھی جنت میں داخل کرے ۵؎  اللہ نے ان دونوں کے پاس فرشتہ بھیجا جس نے ان دونوں کی روحیں قبض کیں۶؎ یہ دونوں رب کے پاس جمع ہوئے ۷؎تو رب نے گنہگار سے فرمایا تو میری جنت میں داخل ہوجا ۸؎ اور دوسرے سے فرمایا کیا تو میرے بندے پر میری رحمت روک سکتا ہے عرض کیا نہیں یارب ۹؎  فرمایا لے جاؤ اسے آگ میں ۱۰؎(احمد)
شرح
۱؎ جن کی محبت رشتہ داری یا شرکت کاروباری کی وجہ سے تھی نہ کہ دین وتقویٰ کی  بنا پر کیونکہ مؤمن، کافر،متقی،فاجر میں یہ محبت نہیں ہوسکتی،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ"الخ۔

۲؎ حق یہ ہے کہ یَقُوْلُ کا فاعل یا تو خود وہ بندہ ہے یعنی وہ بندہ کہتا تھا میں گنہگار ہوں یا اس زمانہ کے لوگ ہیں یعنی کہنے والے کہتے تھے کہ وہ گنہگار ہے،اس کے فاعل حضور نہیں کیونکہ حضور کو تو ان دونوں کے انجام کی خبرتھی کہ گنہگار سعید ہے اور وہ عابد شقی اسی لیے حضور انور نے اس عابد کو صالح نہ فرمایا بلکہ مجتہد فی العبادت فرمایا یعنی عبادت میں کوشاں۔(مرقات)بعض کے خیال میں یَقُوْلُ کا فاعل حضور ہی ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ حضور فرماتے ہیں  اس وقت وہ  گنہگار تھا۔

۳؎  یعنی تو میری فکر نہ  کر  اپنی کر  میرا  معاملہ  میرے  رب  کے  ساتھ ہے  اس  کا  یہ  کلام رب تعالٰی سے امید کی بنا پر ہے نہ کہ بے خوفی ہے ورنہ کفر ہوجاتا۔

۴؎ غالبًا عابد نے اسے بہت جھڑکا ہوگا اور ذلیل وخوار اور لوگوں میں بدنام کیا ہوگا اس لیے اس نے جل کر یہ کہا۔خیال رہے کہ تبلیغ بہت اچھی چیز ہے مگر دوسرے میں ضد پیدا کردینا اور اسے بدنام کرنا برا کہ اس سے سامنے والا گناہ چھوڑے گا نہیں بلکہ ضد میں آکر زیادہ گناہ کرے گا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَجٰدِلْہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ"لہذا اس کا یہ جواب بھی کفر نہ ہوگا۔

۵؎ یہ وہ کلام ہے جو اس عابد پر عتاب کا باعث ہوا یعنی کسی گنہگار کے متعلق دائمی جہنمی ہونے کا فیصلہ کیونکہ مغفرت یا عذاب اﷲ کے قبضہ میں ہے،نیز کوئی گنہگار دائمی جہنمی نہیں۔اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ تجھے خدا نہ بخشے گا مجھے ضرور بخشے گا کہ میں نیک کار ہوں۔غرضکہ اس کلام میں دو جرم ہوئے۔

۶؎ یہ فرشتہ حضرت عزرائیل علیہ السلام ہیں جو ہر مرنے والے کے پاس مع اپنے خدام کے پہنچتے ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں کی بیک وقت روحیں قبض کی گئیں،گنہگار اپنی خطاؤں پر نادم ہوکر مرا اور عابد اس پرانے تکبر پر  کہ میں بڑا عابد ہوں میری ضرور بخشش ہوگی۔

۷؎ عرش اعظم کے نیچے۔(مرقات)رب تعالٰی بعض بندوں سے مرتے ہی کلام فرماتا ہے یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔

۸؎ اس طرح کہ میں نے اپنے فضل سے تجھے زندگی میں توبہ کی توفیق بخشی اور تیری توبہ قبول کی اور اگر بغیر توبہ بھی مرگیا تھا تو تیرے گناہ محض اپنے فضل سے معاف کردیئے۔خیال رہے کہ جنت میں داخلہ بغیر نیک اعمال ہوسکتا ہے۔مسلمانوں کے بچے،دیوانے جنتی ہیں بغیر عمل مگر دوزخ میں داخلہ بغیر جرم نہ ہوگا اسی لیے دیوانے کفار اور کفار کی ناسمجھ اولاد جہنمی نہیں۔

۹؎ یہ اقرار اس و قت کررہا ہے جب اقرارکرنا مفید نہیں ہوتا،اس کی جگہ دنیا تھی اس لیے قبول نہ ہو اور سزا دی گئی۔

۱۰؎ یعنی اسے کچھ روز کے لیے دوزخ میں لے جاؤ  تاکہ یہ اپنے غروروتکبر کی سزا بھگتے،یہ شخص کافر نہ تھا متکبر تھا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ وہ گناہ جو انسان میں ندامت عجزوانکسا رپیداکرے اس عبادت سے بہتر ہے جو عابد میں تکبروغرور پیدا کردے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔(مرقات)دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کا خطاءً گندم کھالینا  شیطان کی ہزارہا سال کی عبادت سے افضل ہوا کہ اس خطاء سے آپ بہت عرصہ تک توبہ کرتے رہے اور شیطان اس عبادت سے مغرور ہوگیا اسی لیے حضرت آدم کے سر پر خلافت کا تاج رکھا گیا اور شیطان کے گلے میں لعنت کا طوق پڑا۔
Flag Counter