۱؎ ہجرت کے معنے ہیں چھوڑنا یا منتقل ہونا،یہاں اس سے مراد کفر سے ایمان کی طرف،دار شرک سے دارالسلام کی طرف،گناہوں سے توبہ کی طرف،غفلت سے بیداری کی طرف،کفران سے غفران کی طرف منتقل ہونا ہے، یہ ہجرتیں قریب قیامت تک ہوتی رہیں گی۔مکہ معظمہ سے ہجرت غلبۂ کفر نہ رہنے کی بنا پرختم ہوچکی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا"لَا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْیَوْمِ"اور حضرت عباس کو ختم المہاجرین قرار دیا گیا یعنی مکہ معظمہ سے آخری مہاجر لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ توبہ اور ہجرتوں کا سلسلہ قریب قیامت تک قائم رہے گا۔خیال رہے کہ اسلام میں نہ زمین گھومتی ہے نہ آسمان بلکہ چاند سورج اور تارے آسمان پر تیر رہے ہیں جیسے سمندر میں کشتیاں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسْبَحُوۡنَ"تو جو رب انہیں ہمیشہ مشرق سے مغرب کی طرف تیرانے پر قادر ہے وہ اس کے برعکس بھی تیرا سکتا ہے۔