| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت صفوان بن عسال سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے توبہ کے لیے مغرب میں ایک دروازہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے ۲؎ وہ اس وقت تک بند نہ ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۳؎ یہ ہی اﷲ عزوجل کا فرمان عالی شان ہے جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آئیں گی تو کسی ایسے نفس کو ایمان مفید نہ ہوگا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،کوفہ میں قیام رہا،دس غزوات میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،حضرت عبداﷲ ابن مسعود نے آپ سے احادیث روایت کیں۔ ۲؎ یعنی آسمانوں میں بہت دروازے ہیں:بعض دروازے فرشتوں کے اترنے کے لیے،بعض رزق عباد نازل ہونے کے لیے،بعض اعمال عباد چڑھنے کے لیے،ایک دروازہ وہ ہے جس سے بندوں کی توبہ جاتی ہے اور بارگاہ الٰہی میں پیش ہوتی ہے یہ دروازہ مدینہ منورہ سے جانب مغرب آسمان میں واقع ہے اس کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے تو اس کی لمبائی اور اونچائی کتنی ہوگی یہ رب ہی جانے۔حدیث بالکل اپنے ظاہری معنے پر ہے کسی قسم کی تاویل یا توجیہ کی ضرورت نہیں،آسمان کے دروازے قرآن کریم سے ثابت ہیں"وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ اَبْوٰبًا"الخ۔ ۳؎ یعنی آسمان کے اور دروازے تو بعض اوقات میں بند ہوجاتے ہیں جیسے بندہ کے مرجانے پر اس کی روزی و اعمال کا دروازہ بند ہوجاتا ہے مگر توبہ کا دروازہ قریب قیامت ہی بند ہوگا۔ ۴؎ اس کی تحقیق پہلے ہوچکی کہ جو شخص پہلے دنیا میں موجود ہو اور ہو کافر اور اب سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھ کر ایمان لائے تو اس کا یہ ایمان قبول نہ ہوگا کیونکہ ایمان میں غیب پر ایمان معتبر ہے اور آج ایمان بالشہادۃ ہوگیا جیسے کہ غرغرہ کی حالت میں،یا رب کا ظاہری عذاب دیکھ کر ایمان لانا قبول نہیں،جو اس کے بعد پیدا ہوا اس کا ایمان معتبر ہوگا،یوں ہی گنہگار مسلمان کی توبہ قبول ہوگی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت میں بعض آیات سے مراد آفتاب کا پچھم سے نکلناہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس کے بعد گناہوں سے توبہ بھی قبول نہ ہوگی کیونکہ یہاں فرمایا"اَوْکَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِھَا خَیْرًا"مگر یہ قول کچھ کمزور سا ہے"خَیْرَ فِی الْاِیْمَانِ"کچھ اور ہی ہے۔