| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان نے عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو اس وقت تک بہکاؤں گا جب تک ان کی جانیں ان کے جسموں میں رہیں ۱؎ رب عزّوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت و جلالت اور بلندیٔ درجات کی قسم میں انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں۲؎(احمد)
شرح
۱؎ شیطان سے مراد ابلیس ہے اور بہکانے سے مراد اچھے عقیدوں یا اچھے اعمال سے الگ کردینا ہے یعنی میں بندوں کے مرتے وقت تک کوشش کروں گا کہ وہ بدعقیدہ ہوجائیں،اگر یہ نہ کرسکا تو کم از کم ان سے گناہ ہی کرادوں گا،اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو انہیں نیکی سے روک دوں گا،اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو بڑی نیکی سے روک کر چھوٹی نیکی میں مشغول کردوں گا،ابلیس کی یہ کوشش بندے کے مرتے وقت تک رہتی ہے بعد موت یہ کوشش تو ختم ہوجاتی ہے،اب قبر کے سوالات کے جوابات میں بہکاتا ہے اسی لیے بعد دفن میت کو تلقین کرنے کا حکم ہےلہذا یہ حدیث نہ تو اس حدیث کے خلاف ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد دفن میت کے لیے شیطان سے حفاظت کی دعا فرمائی اور نہ اس آیت کے خلاف ہے کہ"اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ"۔بہر حال کوئی شخص کسی حال میں اپنے کو شیطان سے محفوظ نہ جانے اﷲ کی پناہ مانگے۔آدم علیہ الصلوۃ والسلام معصوم تھے اور جنت میں تھے جو جگہ محفوظ تھی مگر پھربھی شیطان نے وہاں اپنا داؤ چلایا تو ہم نہ معصوم ہیں نہ دنیا جگہ محفوظ پھر ہم کس چیز پر شیخی ماریں۔یا اﷲ تیری پناہ ! ۲؎ یعنی اگر جان نکلتے نکلتے بندہ توبہ کرے تو معافی ہوجائے گی۔معلوم ہوا کہ غرغرہ کی توبۂ گناہ قبول ہے جیسا پہلے عرض کیا گیا۔