۱؎ نزع کی حالت کو جب کہ موت کے فرشتے نظر آجائیں غرغرہ کہتے ہیں۔اس وقت کفر سے توبہ قبول نہیں کیونکہ ایمان کے لیے ایمان بالغیب ضروری ہے اب غیب مشاہدہ میں آگیا اسی لیے ڈوبتے وقت فرعون کی توبہ قبول نہ ہوئی مگر گناہوں سے توبہ اس وقت بھی قبول ہے اگر توبہ کا خیال آجائے اور الفاظ توبہ بن پڑیں۔اسی لیے مرقات نے یہاں فرمایا کہ عبدسے مراد بندہ کافر ہے کہ غرغرہ کے وقت اس کی توبہ قبول نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"حَتّٰۤی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الۡـٰٔنَ" الخ۔بعض علماء نے فرمایا کہ ملک الموت ہر مرنے والے کو نظر آتے ہیں مؤمن ہو یا کافر۔خیال رہے کہ قبض روح پاؤں کی طرف سے شروع ہوتا ہے تاکہ بندہ کی اس حالت میں دل و زبان چلتے رہیں،گنہگار توبہ کرلیں،کہا سنا معاف کرالیں،کوئی وصیت کرنی ہو تو کرلیں۔یہ بھی خیال رہے کہ غرغرہ کے وقت گناہوں سے توبہ کے معنے ہیں گزشتہ گناہوں پر شرمندہ ہوجانا،اب آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد بیکار ہے کہ اب تو دنیا سے جارہا ہے گناہ کا وقت ہی نہ پاسکے گا مگر یہ توبہ اس وقت کی قبول ہے کہ رب تعالٰی غفار ہے۔