| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ داغ لگ جاتا ہے ۱؎ اگر توبہ کرے اور معافی مانگ لے تو اس کا دل صیقل ہوجاتا ہے اور اگر گناہ زیادہ کرے تو سیاہی زیادہ ہوتی ہے حتی کہ دل پر چھاجاتی ہے یہ ہی وہ زنگ ہے جس کا رب تعالٰی نے ذکر فرمایا ہے کہ ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ لگادی ۲؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔
شرح
۱؎ خیال رہے کہ انسان کا دل صاف شفاف آئینہ کی طرح ہے ذرا سے غبار سے دھندلا ہوجاتا ہے،گناہ دل کے غبار ہیں اور کفر دل کا زنگ۔قلب کا قالب سے گہرا تعلق ہے جیسے جڑ کا شاخوں سے اس لیے گناہ جسم کرتا ہے اور سیاہ دل ہوتا ہے،دیکھو غم و فکر دل کو ہوتا ہے اور جسم دبلا و پیلا پڑ جاتا ہے،جسم کو صاف رکھنے،غسل کرانے،اچھی ہوا دینے سے دل کو شفا ہوتی ہے،یہ بھی خیال رہے کہ جیسے گناہ بہت آہستگی سے دل کو میلا کرتے ہیں ایسے ہی توبہ اور نیک اعمال بہت آہستگی سے میلے دل کو صاف کرتے ہیں مگر نبی کی عداوت یکدم شفاف دل کو میلا نہیں بلکہ زنگ آلود کردیتی ہے جیسے شیطان کا حال ہوا کہ لاکھوں سال کی عبادت ایک سیکنڈ میں برباد ہوکر اس کا دل ناقابل علاج،زنگ آلود ہوگیا اور مقبول بندے کی نگاہ کرم ایک آن میں زنگ آلود دل کو صاف کرکے اس پر پالش کردیتی ہے،موسیٰ علیہ السلام کی نظر سے برسوں کے مجرم جادوگر مؤمن، صحابی،صابر اور شہید ہوگئے،حضور غوث پاک کی ایک نظر سے چور قطب ہوگئے اسی لیے صوفیاء فرماتے ہیں۔شعر یک زمانہ صحبتے با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا یک زمانہ صحبتے یا انبیاء بہتر از ہزار سالہ طاعت بے ریا یک زمانہ صحبتے یا مصطفی بہتر از لکھ سالہ طاعت بے ریا ۲؎ مسلسل گناہ بغیر توبہ کی وجہ سے دل میں زنگ بلکہ کٹھ لگ جاتی ہے جو پھر صرف نیکیوں سے صاف نہیں ہوتی بلکہ نگاہ کامل سے صاف ہوتی ہے اسی لیے رب تعالٰی نے عرب جیسے کٹھ لگے ہوئے ملک میں ایسے شاندار رسول کو بھیجا،اندھے شیشوں میں کوئی خاص چمک والا ہی چمکتا ہے،وہاں چمکنا ہر ایک کا کام نہیں۔ران رین سے بنا بمعنی کٹھ یا بہت موٹی تہہ والا پردہ۔