۱؎ یہاں کل مجموعی ہے نہ کہ کل افرادی یعنی تمام انسان گنہگار ہیں نہ کہ ہر انسان کیونکہ حضرات انبیاء گناہوں سے معصوم ہیں کہ گناہ کرسکتے ہی نہیں اور بعض اولیاء محفوظ کہ گناہ کرتے نہیں اور اگر یہ کل افرادی ہو تو خطاء میں لغزشیں بھی داخل ہوں گی یا یہ عام مخصوص منہ البعض ہے جس سے وہ پاک حضرات مستثنٰی ہیں لہذا یہ حدیث نہ تو قرآنی آیات کے خلاف ہے نہ ان احادیث کے جن میں ان مقبولوں کی عصمت کا ذکر ہے اور نہ اس حدیث کی بناء پر حضرات انبیاء کو گنہگار کہا جاسکتا ہے۔عصمت انبیاء کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"کے تتمہ میں ملاحظہ کیجئے۔
۲؎ یعنی لوٹنے والے گناہ سے نیکی کی طرف،خطاء سے معافی کی طرف،غفلت سے بیداری کی طرف،خلق سے خالق کی طرف،غیوبۃ سے حضور کی طرف،نفس سے رب غفور کی طرف۔غرضکہ جیسی خطا ویسی توبہ،یہ حدیث توبہ کی تمام اقسام کو جامع ہے،رب تعالٰی توبہ کی توفیق دے۔