| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ معافی مانگ لینے والا گناہ پر اڑیل نہیں اگرچہ دن میں ستر بار گناہ کرے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی وہ جو قرآن شریف میں فرمایا گیا:"وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا"کہ وہ اپنے گناہ پر اصرار نہیں کرتے اڑتے نہیں وہاں اڑنے سے مراد یہ ہے کہ گناہ بار بارکرے اور توبہ کبھی نہ کرے،جو توبہ کرتا رہے وہ اڑیل نہیں۔توبہ کے معنے پہلے عرض کئے جاچکے ہیں کہ بوقت توبہ گناہ سے باز رہنے کا پورا ارادہ ہو اور اگر توبہ کے وقت ہی یہ خیال ہے کہ گناہ کرتا رہوں گا تو یہ توبہ نہیں بلکہ اسلام کا مذاق ہے۔