۱؎ اس طرح کہ روزانہ استغفار کے کلمے زبان سے ادا کیا کرے گناہ کرے یا نہ کرے۔بہتر یہ ہے کہ نماز فجر کے وقت سنت فجر کے بعد فرض سے پہلے ستر بار پڑھا کرے کہ یہ وقت استغفار کے لیے بہت ہی موزوں ہے، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَبِالْاَسْحَارِہُمْ یَسْتَغْفِرُوۡنَ"۔
۲؎ یہ عمل بہت ہی مجرب ہے۔روزی سے مراد مال،اولاد،عزت سب ہی ہے۔استغفار کرنے والے کو رب تعالٰی یہ تمام نعمتیں غیبی خزانہ سے بخشتا ہے،قرآن کریم فرماتاہے:"فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوۡا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدْرَارًا"۔قرآن کریم میں استغفار پر پانچ نعمتوں کا ذکر فرمایا اور اس حدیث نے تین نعمتوں کا مگر ہماری اس شرح سے وہ پانچوں نعمتیں ان تین میں آگئیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ"۔یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے۔