۱؎ سبحان اﷲ! بہت امید افزا حدیث ہے یعنی جو مؤمن رب تعالٰی کو عذاب و مغفرت پر قادر مانے،پھر اس سے گناہ سرزد ہوجائے رب تعالٰی اپنے فضل سے اسے بخش دے گا۔مالم یشرك پہلے جملہ کی تاکید ہے کیونکہ جو رب تعالٰی کو نبی کے بتانے سے ہر چیز پر قادر مانے وہ مؤمن ہی ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ کی بخشش توبہ پر موقوف نہیں اسی طرح حقوق العباد کی معافی خود حق والے سے معاف کرانے پر موقو ف نہیں کہ رب تعالٰی نے اس کے بغیر بخش ہی نہ سکے قانون اور ہے قدرت کچھ اور،قانون کے ہم پابند ہیں رب تعالٰی پابند نہیں۔اس حدیث میں رب تعالٰی کی قدرت کا ذکر ہے اور حقوق العباد والی حدیث میں قانون کا ذکر لہذا احادیث آپس میں متعارض نہیں اور نہ اس میں بندوں کو گناہ پر دلیرکرنا ہے۔