۱؎ ہاتھ پھیلانے سے مراد عفووکرم کا وسیع کردینا پھیلا دینا ہے۔مقصد یہ ہے کہ رب کا کرم بہت وسیع ہے، گنہگار کو ہر وقت کرم میں لینے کو تیار ہے کوئی آنے والا ہو۔
۲؎ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجاے گا،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَوْمَ یَاۡتِیۡ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنۡفَعُ نَفْسًا اِیۡمٰنُہَا" الخ۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ اس وقت سے ان لوگوں کی توبہ قبول نہ ہوگی جو سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں لیکن جو لوگ اس واقعہ کے بعد پیدا ہوں ان کی توبۂکفربھی قبول ہوگی اور توبۂ گناہ بھی کہ انہوں نے علامات قیامت دیکھی ہی نہیں۔حضرت استاذومرشد صدرالافاضل مراد آبادی قدس سرہ فرماتے تھے کہ اس وقت کے بعد انسان کی پیدائش ہی بند ہوجائے گی۔غرضکہ آیت وحدیث میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے گناہ کرتے رہے توبہ نہ کی،یہ علامت دیکھ کر توبہ کرنے لگے ان کی توبہ قبول نہیں کہ غیب کھل جانے کے بعد توبہ کیسی۔