Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
552 - 5479
حدیث نمبر 552
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اﷲ تمہیں لے جائے اور ایسی قوم لائے جو گناہ کریں پھر معافی مانگیں تو اﷲ انہیں بخشے ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ اس حدیث کا مقصد لوگوں کو گناہ پر دلیر کرنا نہیں بلکہ توبہ کی طرف مائل کرنا ہے یعنی اے انسانو! اگر تم بھی فرشتوں کی طرح سارے ہی معصوم بے گناہ ہوتے تو کوئی قوم ایسی پیدا کی جاتی جو غلطی و خطاء سے گناہ کرلیا کرتی پھر توبہ کرتی اسے رب تعالٰی معاف کرتا کیونکہ خلقت رب تعالٰی کی صفات کا مظہر ہے اور جیسے رب کی صفت رزاق ہے ایسے ہی اس کی صفت غفار بھی ہے۔رزاقیت کا ظہور رزق و مرزوق سے ہوتا ہے غفاریت کی جلوہ گری گناہ اور گنہگار سے ہوتی ہے۔جو یہ حدیث دیکھ کر گناہ پر دلیر ہو اور پھر گناہ کرے تو کافر ہوا اور یہاں ذکر گناہ کا ہے نہ کہ کفر کا۔خلاصہ یہ ہے کہ اے گنہگار رب کی رحمت سے مایوس نہ ہو بلکہ توبہ کر لے وہ غفور رحیم ہےتجھ سے گناہ کا صدور تقاضائے حکمت الٰہی ہے تم سے کوئی گناہ نہ ہو یہ ناممکن ہے۔یہاں سے جانے سے مراد ہلاک کرنا نہیں ہے بلکہ انہیں آسمانوں پر پہنچا دینا،فرشتوں کے ساتھ رکھنا اور زمین پر دوسری قوم قابلِ گناہ کو بسانا مراد ہے۔
Flag Counter