۱؎ اس حدیث کا مقصد لوگوں کو گناہ پر دلیر کرنا نہیں بلکہ توبہ کی طرف مائل کرنا ہے یعنی اے انسانو! اگر تم بھی فرشتوں کی طرح سارے ہی معصوم بے گناہ ہوتے تو کوئی قوم ایسی پیدا کی جاتی جو غلطی و خطاء سے گناہ کرلیا کرتی پھر توبہ کرتی اسے رب تعالٰی معاف کرتا کیونکہ خلقت رب تعالٰی کی صفات کا مظہر ہے اور جیسے رب کی صفت رزاق ہے ایسے ہی اس کی صفت غفار بھی ہے۔رزاقیت کا ظہور رزق و مرزوق سے ہوتا ہے غفاریت کی جلوہ گری گناہ اور گنہگار سے ہوتی ہے۔جو یہ حدیث دیکھ کر گناہ پر دلیر ہو اور پھر گناہ کرے تو کافر ہوا اور یہاں ذکر گناہ کا ہے نہ کہ کفر کا۔خلاصہ یہ ہے کہ اے گنہگار رب کی رحمت سے مایوس نہ ہو بلکہ توبہ کر لے وہ غفور رحیم ہےتجھ سے گناہ کا صدور تقاضائے حکمت الٰہی ہے تم سے کوئی گناہ نہ ہو یہ ناممکن ہے۔یہاں سے جانے سے مراد ہلاک کرنا نہیں ہے بلکہ انہیں آسمانوں پر پہنچا دینا،فرشتوں کے ساتھ رکھنا اور زمین پر دوسری قوم قابلِ گناہ کو بسانا مراد ہے۔