Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
551 - 5479
حدیث نمبر 551
روایت ہےحضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے آدمی مار ڈالے تھے ۱؎ پھر مسئلہ پوچھنے نکلا تو ایک پادری کے پاس پہنچا ۲؎ اس سے پوچھا کہ کیا اس کی توبہ ہوسکتی ہے وہ بولا نہیں۳؎ اس نے اسے بھی مار دیا ۴؎ اور مسئلہ پوچھتا پھرا اسےکسی نے بتایا کہ فلاں بستی میں جا ۵؎  اسی حال میں اسے موت آگئی تو اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف کردیا ۶؎ اس کے متعلق رحمت و عذاب کے فرشتوں نے جھگڑا کیا ۷؎ رب نے اس بستی کی طرف حکم بھیجا کہ قریب آجا اور اس بستی کی طرف کہ دور ہوجا پھر فرمایا ان دونوں بستیوں کے درمیان نا پو پھر وہ اس بستی کی طرف ایک بالشت قریب پایا گیا چنانچہ اس کی مغفرت کردی گئی ۸؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  ظلمًا ڈکیتی سے یا کسی اور طرح۔

۲؎ یعنی جب اس کی موت قریب آئی تو رحمت خداوندی نے دستگیری کی،اپنے کئے پر پشیمان ہوا اور اس گناہوں کے شہر سے نکل کھڑا ہوا،مسئلہ پوچھنے عالم وقت کے پاس گیا،راھب رھبٌ سے بنابمعنی خوف۔اصطلاح میں راہب وہ پادری جوگی کہلاتے تھے جو خوف خدا میں تارک الدنیا ہوجاتے تھے،گوشہ میں بیٹھ کر اﷲ اﷲ ہی کرتے تھے،ان میں سے اکثر عالم بھی ہوتے تھے،یہودونصاریٰ کے ہاں ترک دنیا بہترین عبادت تھی ہمارے اسلام میں ممنوع ہے۔

۳؎ یا تو وہ راہب توبہ کے مسئلے سے جاہل تھا اور یا اس کا مطلب یہ تھا کہ قتل حق العباد ہے،مقتول کے ورثاء سے اس میں معافی مانگنا ضروری ہے،اتنے بہت سے مقتولوں کے وارثوں کے پاس یہ کیسے پہنچے گا اور انہیں کیسے راضی کرے گا بہرحال اس راہب نے مسئلہ غلط بتایا۔

۴؎  بخشش سے مایوسی کی وجہ سے وہ گناہ پر دلیر ہوگیا،مایوس بلی کتے پر حملہ کردیتی ہے اسی لیے اسلام نے بڑے سے بڑے مجرم کو بھی بخشش سے مایوس نہ کیا،پھانسی والے ملزم کو تمام قیدیوں سے الگ کال کوٹھڑی میں رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو کر اور دوچار کو قتل نہ کردے،آریوں کے ہاں توبہ کوئی چیزنہیں ان کے مذہب نے گناہ پر دلیر کیا ہے۔

۵؎   پہلا کذا نام بتانے کے لیے ہے اور دوسرا کذا بیان اوصاف کے لیے یعنی فلاں نام کی بستی جو فلاں طرف ہے جس میں اﷲ کے بہت نیک بندے رہتے ہیں تو وہاں جا اور فلاں سے مسئلہ پوچھ۔

۶؎  یعنی اس طرح گر کر مرا کہ اس کا چہرہ اور سینہ تو اس عالِم کی بستی کی طرف تھا جہاں جارہا تھا اور پیٹھ اس گناہوں کی بستی کی طرف جہاں سے آرہا تھا اﷲ تعالٰی کو اس کی یہ ادا پسند آگئی۔اس سےمعلوم ہوا کہ مسئلہ پوچھنے کے لیے عالموں کے پاس جانا عبادت ہے،نیز عالم کے شہرکی تعظیم اور اس طرف منہ کرکے سونا یا مرنا بھی رب تعالٰی کو پسند ہے۔سنت یہ ہے کہ مؤمن کعبہ کو منہ اور سینہ کرکے سوئے،میت کو کعبہ کے رخ دفن کرو،بعض عشاق مدینہ منورہ یا بغداد شریف کی طرف منہ کرکے دعائیں مانگتے ہیں،نماز غوثیہ میں بعد نماز گیارہ قدم بغداد شریف کی طرف منہ کرکے چلتے ہیں اور ادھر ہی منہ کرکے دعا مانگتے ہیں ان سب کی اصل یہ حدیث ہے،دیکھو اس شہر میں کعبہ یا بیت المقدس نہ تھا صرف ایک عالم کی بستی تھی جس کے ادب کی برکت سے بخشا گیا۔رب تعالٰی نے توبہ کرنے والے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا"ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡاحِطَّۃٌ"اس نبیوں کے شہر میں سجدہ کرتے جاؤ اور وہاں ہم سے معافی مانگو۔

۷؎ یعنی یہ شخص بالکل بیچ میں تھا کہ اسے موت آگئی،اس کی روح کو لینے کے لیے رحمت کے فرشتے بھی آگئے اور عذاب کے بھی،عذاب والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے بڑے گناہ کرکے آیا تھا،رحمت والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے توبہ کرنے جارہا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کے لیے رب تعالٰی کی طرف سے قانون مقرر کردیا گیاہے،کس قسم کی میت کو عذاب کے فرشتے لیں اور کس کو رحمت کے وہ اسی قانون کے تحت ہر میت تک پہنچ جاتے ہیں لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے تو خدا کے حکم سے آتے ہیں یہاں رب تعالٰی نے دونوں قسم کے فرشتے بھیجے ہی کیوں لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ"کیونکہ وہاں امر سے مراد کلی امرہے جیسے رب تعالٰی نے ہم کو نمازوں وغیرہ کا کلی امر دے رکھا ہے۔

۸؎ یعنی اس کی موت بالکل درمیان میں واقع ہوئی تھی،رب تعالٰی نے ارادۂ توبہ کی وجہ سے اس کا اتنا احترام فرمایا کہ اس کی لاش کو اس بستی کی طرف نہ سرکایا بلکہ دونوں بستیوں کو حرکت دی کہ اس کو پیچھے ہٹایا اس کو آگے بڑھایا۔خیال رہے کہ رب تعالٰی جب بندے سے راضی ہوجائے تو اپنے حقوق تو خود معاف کردیتا ہے اور بندوں کے حقوق حق والوں سے معاف کرادیتا ہے۔اس موقعہ پربھی رب تعالٰی نے مقتولوں کو کچھ دے کر معاف کرادیا  لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ ظلمًا قتل حق العباد تھے بغیر بندوں کے معاف کئے اس کی بخشش کیسے ہوگئی اور نہ یہ کہ دو بستیوں کو کیوں ہٹایا لاش کو ہی کیوں نہ سرکادیا۔
Flag Counter