۱؎ یُغَانُ غین سے بنا،بمعنی پردہ اسی لیے سفید بادل کو غین کہا جاتاہے۔اس پردے کے متعلق شارحین نے بہت خامہ فرسائی کی ہے بعض کے نزدیک اس سے مراد حضور کی دنیا میں مشغولیت ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے سونا مراد ہے،بعض کے خیال میں اس سے مراد اجتہادی خطائیں ہیں مگر حق یہ ہے کہ یہاں غین سے مراد اپنی امت کے گناہوں کو دیکھ کر غم فرمانا ہے اور استغفار سے مراد ان گنہگاروں کے لیے استغفار کرنا ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تا قیامت اپنی امت کے سارے حالات پر مطیع ہیں،ان گناہوں کو دیکھتے ہیں، دل کو صدمہ ہوتا ہے اس صدمے کے جوش میں انہیں دعائیں دیتے ہیں۔(لمعات،مرقات،اشعہ وغیرہ)اس کی تائید قرآن کی اس آیت سے ہوتی ہے"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"اے مسلمانو تمہاری تکلیفیں ان پرگراں ہیں۔شعر
آنچہ تو کردی کسے باخود نہ کرو روح پاک مصطفی آمد بدرد
بدہنسیں تم ان کی خاطر رات بھر روؤ کراہو
بد کریں ہر دم برائی تم کہو ان کا بھلا ہو