Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
547 - 5479
باب الاستغفار و التوبۃ

بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کاباب  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ استغفار کے معنی ہیں گزشتہ گناہوں کی معافی مانگنا اور توبہ کی حقیقت ہے آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہدکرلینا یا زبان سے گناہ نہ کرنے کا عہد استغفار ہے اور دل سے عہد توبہ۔استغفار غفر سے بنا،بمعنی چھپانا یا چھلکا و پوست،چونکہ استغفار کی برکت سے گناہ ڈھک جاتے ہیں اس لیے اسے استغفار کہتے ہیں۔توبہ کے معنے رجوع کرنا،اگر یہ حق تعالٰی کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ارادۂ عذاب سے رجوع فرمالینا اور اگر یہ بندے کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں گناہ سے اطاعت کی طرف،غفلت سے ذکر کی طرف،غیبت سے حضور کی طرف لوٹ جانا۔توبہ صحیح یہ ہے کہ بندہ گزشتہ گناہوں پر نادم ہو،آئندہ  نہ کرنے کا عہدکرے اور جس قدر ہوسکے اسی قدرگزشتہ گناہوں کا عوض اور بدلہ کردے۔نمازیں ہوں تو قضا کرے،کسی کا قرض رہ گیا ہے تو ادا کردے۔حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ توبہ کا کمال یہ ہے کہ دل لذتِ گناہ بلکہ گناہ بھول جائے۔
حدیث نمبر 547
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کی قسم میں ایک دن میں ستر بار سے زیادہ رب سے مغفرت مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۱؎(بخاری)
شرح
۱؎ توبہ و استغفار روزے نماز کی طرح عبادت بھی ہے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر عامل تھے یا یہ عمل ہم گنہگاروں کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم معصوم ہیں گناہ آپ کے قریب بھی نہیں آتا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں اور وہ حضرات عبادت کرکے توبہ کرتے ہیں۔شعر

زاہداں از گناہ توبہ کنند		عارفاں از عبادت استغفار

سیدنا علی مرتضٰی فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کے لیے دنیا میں دو امانیں ہیں:ایک نے پردہ فرمالیا اور دوسری قیامت تک ہمارے پاس ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور استغفار۔
Flag Counter