۱؎ ظاہر یہ ہے کہ لوگوں سے مراد مسلمان ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ"۔اور ہو سکتا ہے کہ سارے انسانوں سے خطاب ہو یعنی اے کافرو کفر سے توبہ کرو،اے گنہگارو گناہوں سے باز آجاؤ،اے نیک کارو اپنی نیکی کو کم جانو اور توبہ کرو۔معلوم ہوا کہ ہر شخص توبہ کا حاجت مند ہے۔
۲؎ جو پہلے عرض کیا گیا تھا اس کی تائید اس جملے سے ہوگئی یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری تعلیم کے لیے توبہ کرتے تھے۔مطلب یہ ہے کہ جب ہم معصوم ہوکر روزانہ سو بار توبہ کرتے ہیں تو تم کو چاہئیے کہ تم ہزاروں بار توبہ کیا کرو۔