Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
546 - 5479
حدیث نمبر 546
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایا سبحان اﷲ ساری مخلوق کی عبادت ہے ۱؎ اور الحمدﷲ کلمہ شکر ہے ۲؎  اور لا الہ الا اﷲ اخلاص کا کلمہ ہے ۳؎  اور اﷲ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہے۴؎  اور جب بندہ کہتا ہے لاحول ولا قوۃ الا باﷲ تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(رزین)
شرح
۱؎ یعنی ہر مخلوق رب تعالٰی کی تسبیح بزبان قال کرتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"دوسری جگہ فرماتاہے:"قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَتَسْبِیۡحَہٗ"۔حق یہ ہے کہ ہر چیز کو رب تعالٰی کی معرفت حاصل ہے اور وہ بزبان قال نہ کہ فقط حال سے تسبیح کرتی ہے اولیاءاﷲ ان تسبیحوں کو سنتے ہیں،صحابہ کرام کھاتے وقت لقمے کی تسبیح سنتے تھے حتی کہ سبزہ کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف ہوتی ہے۔

۲؎  یعنی شکر کا ستون ہے یا شکر کی چوٹی ہے جس کے بغیر شکر مکمل نہیں ہوتا۔(ازمرقات)

۳؎  لاالہ الا اﷲ سے مراد پورا کلمہ ہے،اخلاص سے مراد ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت میں دوزخ سے رہائی پاتاہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے،بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے۔

۴؎ کہ اس کا ثواب اس کی عظمت ان تمام چیزوں کو بھر دیتی ہے یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے کہ ہماری کوتاہ نظریں ان آسمان زمین تک ہی محدود ہیں،ورنہ رب تعالٰی کی کبریائی کے مقابل آسمان و زمین کی کیا حقیقت ہے یہ ایسےہے جیسے رب تعالٰی نے فرمایا کہ"لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ"حالانکہ اس کی ملکیت آسمان و زمین میں محدود نہیں۔
Flag Counter