| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتادوں جو عرش کے نیچے سے آیا ۱؎ جنت کے خزانوں سے ہے ۲؎ وہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ فرمانبردار ہوگیا اور اس نے اپنے کو میرے سپردکردیا ۳؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کیں۔
شرح
۱؎ یہ ترجمہ بہت بہتر ہے کیونکہ مِنْ تَحْتَ الْعَرْشِ میں لفظ مِنْ ابتدائیہ ہے،روزی کے خزانے آسمان میں ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ"مگر خاص رحمت کا خزانہ عرش اعظم کے نیچے ہے،اسی خزانہ سے سورۂ بقر کی آخری آیات آئیں اور اسی خزانہ سے لاحول شریف آئی۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو رب تعالٰی کے تمام خزانوں کی خبر ہے تب ہی تو فرماتے ہیں کہ یہ فلاں خزانہ کا موتی ہے۔ ۲؎ یعنی لاحول شریف بنی عرش کے نیچے رہی،جنت کے خزانہ میں اس کا خزانہ تکوینی و تخلیقی زیر عرش ہے خزانہ امانت جنت ہے جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نیل وفرات جنت کی نہریں ہیں۔ ۳؎ یعنی جو بندہ لاحول شریف کی کثرت کرے تو رب تعالٰی اس کے متعلق فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس بندے نے اپنے کو بالکل میرے سپرد کردیا اب میں اس کی ہر بات کا والی وارث ہوگیا،بلا تشبیہ جیسے بچہ اپنے کو ماں کے حوالے کردیتا ہے تو اس کی ساری فکریں ماں اٹھالیتی ہے اور بچہ ہر فکر سے آزاد ہوجاتا ہے،یہ رب تعالٰی کی بڑی نعمت ہے کسی کسی کو میسر ہوتی ہے۔