| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت مکحول سے ۱؎ وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں مجھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ زیادہ پڑھا کرو کہ یہ جنت کے خزانے سے ہے ۲؎ مکحول فرماتے ہیں جو کوئی پڑھاکرے لاحول ولا قوۃ الا باﷲ اور لا منجامن اﷲ الا الیہ تو اﷲ تعالٰی اس سے ستر مصیبتوں کے در بند کردے گا جن میں سے ادنیٰ مصیبت فقیری ہے۳؎ (ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد متصل نہیں مکحول نے حضرت ابوہریرہ سے سنا نہیں۴؎
شرح
۱؎ آپ جلیل القدر تابعی ہیں،حبشی النسل ہیں،شام کے مفتی ہیں،امام زہری فرماتے ہیں کہ چار علماء بڑے کامل ہیں:مدینہ منورہ میں ابن مسیب اور کوفہ میں امام شعبی،بصرہ میں خواجہ حسن بصری،شام میں مکحول۔ ۲؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی یعنی یہ جنت کی نفیس نعمتوں میں سے ہے جو اس دن کام آئیں گی جب مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں کہ محفوظ خزانے خاص ضرورت کے وقت ہی کھولے جاتے ہیں۔ ۳؎ مرقات نے فرمایا کہ یہاں فقیری سے مراد دل اور مال دونوں کی فقیری ہے یعنی اس کا عامل مال کا بھی غنی ہوگا اور دل کا بھی کیونکہ جو اپنے کو رب کے سپردکردے وہ یقینًا غیر سے مستغنی ہوتاہے اس شخص پر اگر کبھی مال کی غریبی آبھی گئی تو وہ دل کا فقیر نہ بنے گا۔ ۴؎ کیونکہ جناب مکحول نے حضرت انس ابن مالک واثلہ ابن اسقع اور ہندوزان صحابہ سے ملاقات کی ہے لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مکحول جیسے جلیل القدر تابعی کا ایک راوی کا چھوڑ دینا کوئی مضر نہیں،جب امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے جس میں ایک راوی کا ذکر بھی نہیں ہوتا تو حضرت مکحول کا ایک راوی چھوڑ دینا کیوں مضر ہوگا۔