۱؎ ظاہر ہے کہ وہ درخت جنگلی تھا جس کا کوئی مالک نہیں،اس کے پھل پھول پتے ہرشخص لے سکتا ہے اور ممکن ہے کسی کے گھر یا باغ کا درخت ہو،چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کی جان و مال کے مالک ہیں اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بغیر اجازت درخت کے پتے جھاڑ دیئے ورنہ کسی کے مملوک درخت پر پتھر پھینکنا،لاٹھی سے اس کے پتے جھاڑنا ہمارے وا سطے ممنوع ہے کہ یہ دوسرے کی ملک میں تصرف ہے۔
۲؎ سبحان اﷲ! کیا نفیس تشبیہ ہے یعنی گناہوں میں گرفتار انسان سوکھے ہوئے درخت کی طرح ہے اور اس کے گناہ مثل پتوں کے اور یہ کلمات گویا عصائے محبوبی ہیں،جس سے وہ گناہ جھڑتے رہتے ہیں۔اس میں صوفیانہ اشارہ اس جانب بھی ہے کہ یہ کلمات گناہوں سے اس وقت پاک کریں گے جب یہ کسی کامل کے ذریعہ کئے جائیں گے کیونکہ اگرچہ درخت میں لگی لاٹھی ہی تھی مگر حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ مبارک سے۔