Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
541 - 5479
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 541
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک بدوی حاضر ہوئے بولے مجھے کوئی وظیفہ سکھائیے جو میں پڑھ لیا کروں  ۱؎ فرمایا کہو اکیلے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اﷲ بہت ہی بڑا ہے،اﷲ کی بہت حمد ہے،اﷲ پاک ہے،جہانوں کا پالنے والا،اﷲ غالب حکمت والے کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت وہ بولے یہ تو رب کے لیے ہوئے میرے لیے کیا ہے ۲؎  فرمایا یوں کہو الٰہی مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما،مجھے ہدایت دے،مجھے روزی دے۳؎ مجھے امن نصیب کر ۴؎ راوی کو عَافِنِی میں کچھ شک ہے ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎  بطور وظیفہ نمازوں کے بعد یا ویسے ہی اوقات مقررہ میں۔معلوم ہوا کہ مشائخ سے وظیفے پوچھنا اور ان کی اجازت حاصل کرنا سنت ہے کہ اجازت سے خاص تاثیر پیدا ہوجاتی ہے ثواب حاصل کرنے کے لیے کسی اجازت وغیرہ کی ضرورت نہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ علاوہ نماز و تلاوت قرآن کے اور ورد و ظیفے بھی کرنے چاہئیں ۔نماز و تلاوت تو روحانی غذائیں ہیں اور یہ وظیفے روحانی میوے،غذا اور میوے دونوں ہی فائدہ مندہیں۔

۲؎  سبحان اﷲ! کیسے مزے کا سوال ہے یعنی یا حبیب اﷲ ان الفاظ میں رب تعالٰی کی حمد تو ہوگئی کچھ دعائیہ کلمے نہ آئے میں اس کی حمدبھی کرنی چاہتا ہوں اور اس سے بھیک مانگنی بھی۔

 ۳؎ یعنی میرے گناہ بخش دے،مغفرت فرما،مجھ پر رحم کر کہ مجھے اطاعتوں کی توفیق دے،اچھی زندگی گزارنے کی توفیق دے،ہدایت دے،مجھے حلال روزی عطا فرما۔

۴؎ یعنی مجھے ایسی مصیبت میں گرفتار نہ کر جس کا انجام میرے لیے برا ہو۔(مرقات) عافیت کے یہ معنی نہایت نفیس ہیں اصل عافیت معصیت سے امن ہے۔

۵؎  غالبًا راوی سے مراد صحابی ہوں یعنی اسناد کے آخری راوی۔ہوسکتا ہے کہ کوئی اور راوی مراد ہوں ان میں یہ شک ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عَافِنِیْ فرمایا یا نہیں،بہتر یہ ہے کہ عَافِنِیْ بھی پڑھا جائے ممکن ہے کہ یہ بھی دعا کا جز ہو عافیت میں دین و دنیا کی ساری امتیں داخل ہیں،یوسف علیہ السلام نے معصیت کے مقابل مصیبت اختیار فرمائی کہ عرض کیا"رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ"کیونکہ معصیت کے مقابلے میں مصیبت  عافیت ہے۔
Flag Counter