| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت یسیرہ سے آپ مہاجر بیویوں میں سے ہیں ۱؎ فرماتی ہیں ہم سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا اے بیبیو تسبیح وتہلیل اور رب کی پاکی بولنے کو لازم کرلو۲؎ انگلیوں پر گنا کرو ۳؎ (عقد انامل)کہ انگلیوں سے سوال ہوگا انہیں گویائی بخشی جائے گی۴؎ اور کبھی غافل نہ ہونا ورنہ تم رحمت سے بھلادی جاؤ گی ۵؎ (ترمذی و ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کا نام یسیرہ بنت یاسر ہے،مشہور صحابیہ ہیں۔ ۲؎ اس طرح کہ کسی حال میں سبّوح قدّوس ربنا ورب الملئکۃ والروح یا سبحان الملك القدوس یا دیگر تسبیحیں اسی قسم کی کبھی نہ چھوڑو،اپنا منہ ان ذکروں سے تر رکھو۔ ۳؎ اس طرح کہ ان کا شمار انگلیوں کے پوروں پرکیا کرو یا عقد انامل کے ذریعہ پوری انگلیوں پر کیا کرو۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیبیاں عقد انامل جانتی ہوں گی اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں عقد انامل کا حکم تو دیا مگر اس کا طریقہ نہ بتایا۔ ۴؎ اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے"یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیۡہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ اَرْجُلُہُمۡ"الخ اور اس آیت سے ہے"وَمَا کُنۡتُمْ تَسْتَتِرُوۡنَ اَنْ یَّشْہَدَ عَلَیۡکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَاۤ اَبْصٰرُکُمْ وَ لَا جُلُوۡدُکُمْ"۔اس سے معلوم ہوا کہ بمقابلہ دانوں پر شمار کرنے کے انگلیوں پر شمارکرنا افضل ہے اور یہ کہ اعضا کو اچھے کاموں میں لگانا چاہیے ورنہ یہ ہمارے خلاف گواہی دیں گے۔ ۵؎ یعنی اگر تم خدا کو بھول گئیں تو رب تعالٰی تمہیں اپنی رحمت سے دور کردے گا،اگر اس کی رحمت چاہتی ہو تو اسے یاد رکھو رب تعالٰی بھول چوک سے پاک ہے اس لیے بھلائی جاؤ گی کہ وہ ہی معنی ہیں جو عرض کئے گئے یعنی رحمت سے دوری،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"تم مجھے یادکرو میرے ذکر سے میں تمہیں یاکروں گا اپنی رحمت سے۔مولانا فرماتے ہیں شعر گر تو خواہی زیستن با آبرو ذکرِ اُوکُن ذکرِ اوکن ذکرِ اُو