| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوسعید و حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کہتا ہے لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر تو رب تعالٰی اس کی تصدیق کرتا ہے کہتا ہے کہ واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں اور میں بہت بڑا ہوں ۱؎ اور جب بندہ کہتا ہے کہ اکیلے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں تو رب فرماتاہے واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں میں اکیلا ہوں میرا کوئی شریک نہیں ۲؎ اور جب بندہ کہتا ہے اﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف ہے تو رب فرماتا ہے واقعی میرے سواء کوئی معبود نہیں میرا ہی ملک ہے میری ہی تعریف ہے۳؎ جب بندہ کہتا ہے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اﷲ کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت تو رب فرماتا ہے واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں میرے بغیر نہ قوت ہے نہ طاقت۴؎ حضور فرماتے تھے کہ جو یہ کلمات اپنے مرض میں کہے پھر مرجائے تو اسے آگ نہ جلائے گی ۵؎ (ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی رب تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ یہ پڑھ رہا ہے اور وہ سچا ہے سچ کہہ رہاہے۔سبحان اﷲ! بندے کی خوش نصیبی ہے کہ اسی کی تھوڑی سی لب کی حرکت سے اس کا ذکر بارگاہِ رب العالمین میں فرشتوں کے سامنے آجائے اور ساتھ میں خود رب تعالٰی تصدیق بھی فرمادے۔ ۲؎ یعنی یہ بندہ وہ گواہی دے رہا ہے جس کی میں اور میرے فرشتے اور میری تمام خلق گواہی دیتے ہیں۔خیال رہے کہ ساری نیکیاں صرف بندے کرتے ہیں مگر گواہی توحید،حضور پر درود(صلی اللہ علیہ وسلم)حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی عزت افزائی،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی میلاد خوانی وہ اعمال ہیں جو رب تعالیٰ،فرشتوں اور تمام مخلوق کے عمل ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ"۔اﷲ تعالٰی نے کسی نیکی کے حکم میں اپنا اور اپنے فرشتوں کا ذکر نہ فرمایا سواء درود شریف کے۔سبحان اﷲ! کلمۂ توحید ایسی پاکیزہ نعمت ہے کہ رب تعالٰی بھی اس میں شرکت فرماتاہے۔ ۳؎ ملك و ملکوت کا فرق پہلے بیان ہوچکا ہے۔ملک تو مجازًا بادشاہ کا بھی ہوجاتا ہیں مگر ملکوت وہ چیز ہے جو رب تعالٰی کے سوا کسی کے قبضہ میں نہیں۔یہاں لی الملك میں حصر حقیقت کے لحاظ سے ہے یعنی حقیقتًا ملک میرا ہی ہے عارضی طور پر مجازًا جسے ملک ملا وہ میری عطاء سے ملا۔شعر درحقیقت مالک ہر شئے خدا ست ایں امانت چند روزہ نزدما است ۴؎ حول و قوت کے نفیس فرق ابھی کچھ پہلے بیان ہوچکے اور لاحول شریف کے فوائدعرض کئے جاچکے۔بندہ رب سے کٹ کر کچھ نہیں نہ اس میں حول رہتی ہے نہ قوت مگر رب سے واصل ہو کر سب کچھ بن جاتا ہے کہ اس میں حول بھی آجاتی ہے اور قوت بھی،قطرہ دریا سے الگ ہو تو کچھ نہیں مگر دریا میں جاتے ہی اس میں روانی،طغیانی،فراوانی سب کچھ آجاتی ہے،شیشہ سائے میں رہے تو کچھ نہیں مگر آفتاب کے مقابل ہوکر اس میں شعاعیں روشنی تیزی دھوپ سب کچھ آجاتی ہے ۔الا باﷲ میں ب الصاق کی ہے یعنی اﷲ سے مل کر بندے میں حول و قوت سب کچھ آجاتی ہے۔ ۵؎ یعنی اسے قبر حشر اور حشر سے فارغ ہونے کے بعد کبھی آگ کا عذاب نہ ہوگا اور جب وہ پل صراط سے گزر گیا تو آگ کا اس پر اثر نہ ہوگا۔سبحان اﷲ! یہ کلمات ایسا روحانی مصالحہ ہیں جس کے لگ جانے سے جہنم کی آگ اثر نہیں کرتی۔