Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
535 - 5479
حدیث نمبر 535
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  کے ساتھ ایک بی بی کے پاس گئے ۱؎ جن کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں تھیں جن پر وہ تسبیح پڑھ رہی تھیں ۲؎  تب حضور نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تم پر اس سے آسان بھی ہو اور بہتربھی ۳؎  اﷲ کی پاکی بولتا ہوں اس کی برابر جسے آسمان میں پیدا فرمایا اور اﷲ کی پاکی بولتا ہوں اس کی برابر جسے زمین میں پیدا فرمایا اور اﷲ کی پاکی بولتا ہوں اس کی برابر جو ان کے درمیان ہے۴؎ اور اﷲ کی پاکی بولتاہوں اس کی برابر جسے وہ پیدا فرمانے والا ہے اور اﷲ بہت بڑا ہے (اسی قدر)تمام تعریفیں اﷲ کی ہیں(اسی قدر)اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں (اسی قدر)اور اﷲ کے بغیر نہ قوت(اسی قدر)۵؎ (ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۔
شرح
۱؎ یہ بی بی صاحبہ یا تو حضرت سعد کی محرمات میں سے ہیں اور یا یہ واقعہ پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے یا جانے سے مراد صرف ان کے پاس پہنچنا ہے نہ کہ انہیں بے پردہ دیکھنا۔شیخ نے لمعات اور اشعہ میں فرمایا کہ یہ بی بی صاحبہ جناب ام المؤمنین جویریہ تھیں رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔

۲؎  یعنی تسبیحیں ان دانوں پر شمار کررہی تھیں،یہ حدیث مروجہ دھاگہ والی تسبیح کی اصل ہے کہ بکھرے دانوں اور دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں میں کوئی فرق نہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ تسبیح کبھی استعمال نہ کی،آپ ہمیشہ بطریق عقد انامل انگلیوں پر شمار فرماتے تھے مگر ایک صحابیہ کو یہ کرتے دیکھا منع نہ فرمایا لہذا تسبیح صحابی کی سنت عملی ہے اورحضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سکوتی۔مرقات نے فرمایا جن لوگوں نے اس تسبیح کو بدعت کہا غلط کہا۔مشائخ فرماتے ہیں کہ تسبیح شیطان پر کوڑہ ہے۔حضرت جنید ولایت کی انتہاء پر پہنچ کر بھی تسبیح پڑھا کرتے تھے کسی نے اس کی وجہ پوچھی جواب دیا کہ اسی کے ذریعہ ہم خدا تک پہنچے ہیں اسے ہم کیسے چھوڑیں۔(مرقات)بعض بزرگ ختم آیت کریمہ کے لیے تھیلوں اور بوریوں میں بادام یا گٹھلیاں جمع کررکھتے ہیں ان کی اصل بھی یہ حدیث ہے۔

۳؎ یہ اَوْ بمعنی واؤ ہے۔مطلب یہ ہے کہ اس دعا میں تمہارا وقت بھی کم خرچ ہوگا اور تمہیں ان تکلفات کی ضرورت بھی نہ پڑے گی اور ان کلمات کا ثواب تمہاری ان کنکریوں سے زیادہ ہوگا یا اَوْ بمعنی بَلْ ہے تب تو مطلب ظاہر ہے۔

۴؎ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ رب کی تسبیح میری گنتی شمار سے وراء ہے کیونکہ آسمان و زمین کی یہ چیزیں میرے علم و ادراک سے خارج ہیں،رب کی عطائیں ہمارے شمار سے باہر ہیں تو اس کی تسبیح بھی ہمارے شمار سے باہر ہونا چاہئیں ۔

۵؎ یعنی گزشتہ اور آئندہ مخلوقات کی بقدر اﷲ اکبر بھی کہتا ہوں اور اسی قدر الحمدﷲ بھی اور اسی قدر لا الہ الا اﷲ بھی اور اسی قدر لاحول الخ بھی اس طرح یہ کلمات میرے پڑھنے میں تو ایک ہیں لیکن رب کے فضل سے ثواب میں ان چیزوں کی تعداد کے برابر۔
Flag Counter