Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
533 - 5479
حدیث نمبر 533
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا یارب مجھے وہ چیز سکھا جس سے تجھے یاد کیا کروں یا جس کے ذریعے تجھ سے دعا کروں ۱؎ رب نے فرمایا اے موسیٰ کہو لا الہ الا اﷲ  پھر عرض کیا یا رب   یہ تو تیرے سارے بندے  ہی کہتے ہیں   میں تو کوئی ایسی خاص چیز  چاہتا ہوں جس سے  تو مجھے خاص کرے ۲؎  فرمایا اے موسیٰ اگر ساتوں آسمان  اور میرے سواء ان کی  آبادی  اور ساتوں  زمینیں  ایک پلڑے  میں رکھ دی جائیں ۳؎  اور لا الہ الا اﷲ دوسرے پلڑے میں تو ان سب پر لا الہ الا اﷲ بھاری ہوگا ۴؎ (شرح سنہ)
شرح
۱؎ یعنی اے مولیٰ مجھے خصوصی ذکر و دعا بذریعہ وحی یا الہام سکھا عمومی ذکر و دعائیں تو تو نے مجھے بہت عطا فرمائی ہیں لہذا حدیث پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ کیا اب تک موسیٰ علیہ السلام کو ذکر و دعا بھی معلوم نہ تھی اس کی تائید اگلے مضمون سے ہورہی ہے۔

۲؎  چونکہ فطرت بشری ہے کہ عام نعمت کے مقابلہ میں خاص نعمت سے زیادہ خوش ہوتے ہیں اگرچہ عام نعمت کا نفع زیادہ ہی ہو،دیکھو ہوا،پانی،نمک وغیرہ کے مقابل سونے چاندی جواہر سے زیادہ خوش ہوتے ہیں،نماز پنجگانہ سے زیادہ نماز عید کی خوشی مناتے ہیں اسی لیے آپ نے یہ سوال فرمایا لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کلمہ سے خوش نہ ہوئے بلکہ اﷲ تعالٰی نے یہ سوال موسیٰ علیہ السلام کے دل میں خود ہی ڈالا تھا تاکہ اس کے جواب سے لوگوں کو کلمہ طیبہ کے مسائل کا پتہ چلے۔خیال رہے کہ یہاں لا الہ الا اﷲ سے مراد صرف یہ ہی الفاظ ہیں کیونکہ شریعت موسوی میں کلمہ میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم داخل نہ ہوا تھا یہ جزء تو دین محمدی کی خصوصیات سے ہے۔

۳؎  خلاصہ جواب یہ ہے کہ اے موسیٰ تم کوئی خاص عمل و وظیفہ ایسا چاہتے ہو جو لا الہ الا اﷲ سے افضل ہو ایسا کوئی وظیفہ نہیں،تمام سے بہتر افضل یہ ہی کلمہ ہے۔ساتوں زمین و آسمان اور ان کے باشندوں میں انسان حیوانات اور ان کے سارے عمل داخل ہیں لہذا تمام وظیفے،اوراد،عبادات سب سے کلمہ طیبہ افضل ہوا کیونکہ رب کا نام مخلوق سے افضل و بہتر ہے ہاں اس کلمہ سے مختلف لوگ مختلف فائدے اٹھاتے ہیں۔جہاں تک اس کی فہم و عمل زیادہ وہاں تک اس کا فیض زیادہ،ہمارے کلمہ پڑھنے سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا کلمہ پڑھنا کہیں افضل و بہتر ہے یہ ہی حال ساری عبادات کا ہے۔(ازمرقات)

۴؎ یعنی اس کلمہ کا مضمون اور اس کا ثواب تمام مخلوق سے زیادہ وزنی ہے بشرطیکہ اخلاص سے پڑھا جائے ورنہ منافقین بھی کلمہ پڑھتے تھے،اب بھی بعض مشرکین کلمہ پڑھ لیتے ہیں ان کے کلمہ کا نہ وزن ہے نہ ثواب،وزن صرف الفاظ کا نہیں،اس کا مضمون کیا ہے،اﷲ تعالٰی کی وحدانیت،یہ تمام صفات الہیہ سے اعلیٰ صفت ہے وہ یقینًا ساری خلق سے اعلیٰ ہے۔فقیر کی اس تقریر سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ انبیائے کرام خصوصًا حضور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم تو اشرف الخلق ہیں اور یہ الفاظ لا الہ الا اﷲ بھی خلق میں داخل ہیں تو نبی ان سے بھی افضل ہونا چاہئیں کیونکہ یہ الفاظ خلق ہیں مگر ان کا مضمون یعنی رب کی وحدانیت خلق نہیں رب کی صفت ہے جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کے الفاظ سے افضل ہیں مگر قرآن کلام الٰہی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے افضل ہے کہ وہ صفت الٰہی ہے اسی طرح الفاظ قرآن حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے تابع ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عربی ہیں تو قرآن بھی عربی،جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مکی تھے تو آیات قرآنیہ مکیہ ہوئیں،جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مدنی ہوگئے تو آیات قرانیہ بھی مدنیہ ہوگئیں مگر مضمون قرآن کی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اتباع کرتے ہیں۔
Flag Counter