Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
52 - 5479
حدیث نمبر 52
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی کھانا لایا جاتا تو اس کے متعلق پوچھتے کہ آیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو صحابہ سے فرماتے کھالو ۱؎ اور خود نہ کھاتے اور اگر عرض کیا جاتا کہ ہدیہ ہے تو ہاتھ شریف بڑھاتے اور ان کے ساتھ کھاتے ۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  غنی صحابہ اپنے واجب و نفلی صدقہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے غرباء میں تقسیم فرمادیں کہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے رب تعالٰی قبول فرمائے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب صفہ وغیرہ فقراءوصحابہ پرتقسیم فرمادیتے تھے اور بعض لوگ خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدیہ و نذرانہ لاتے تھے،چونکہ دو قسم کے مال حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اس لیے اگر لانے والا صاف صاف نہ کہتا تو سرکار خود پوچھ لیتے تھے ہدیہ سے خود بھی کھالیتے تھے مگر صدقہ خود استعمال نہ فرماتے تھے ۔یہاں صحابہ سے مراد فقراء صحابہ ہیں جو صدقہ واجبہ لے سکتے ہیں حضرت عثمان غنی وغیرہم غنی صحابہ مراد نہیں۔صدقہ و ہدیہ کا فرق اس باب کے شروع میں عرض کیا گیا ہے۔

۲؎  یعنی ہدیہ و نذرانہ کا کھانا خود بھی کھاتے تھے اور موجود صحابہ کو بھی اپنے ہمراہ کھلاتے تھے۔خیال رہے کہ غنی اور سید کو صدقہ نفل لینا جائز ہے وہ صدقہ ان کے لیے ہدیہ بن جاتا ہے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نفل بھی نہ لیتے تھے کیونکہ اس میں صدقہ دینے والا لینے والے پر رحم و کرم کرتا ہے جس کا ثواب اﷲ سے چاہتا ہے،سب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کے خواستگار ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم پر کون انسان رحم کرتا ہے،ہاں صدقہ جاریہ جیسے کنوئیں کا پانی،مسجد و قبرستان کی زمین اس کا حکم دوسراہے کہ یہ  ہر غنی و فقیر بلکہ خود صدقہ کرنے والے واقف کو بھی اس کا استعمال جائز ہے یہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی مباح تھا۔(از مرقات وغیرہ)
Flag Counter