۱؎ اس طرح کہ زکوۃ و فطرہ نکل جانے سے لوگوں کے مال ا ور دل پاک و صاف ہوتے ہیں جیسے میل نکل جانے سے جسم یا کپڑا،رب تعالٰی فرماتاہے:"خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا" لہذا یہ مسلمانوں کا دھوون ہے۔
۲؎ یہ حدیث ایسی واضح اور صاف ہے جس میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی یعنی مجھے اور میری اولاد کو زکوۃ لینا اس لیے حرام ہے کہ یہ مال کا میل ہے لوگ ہمارے میل سے ستھرے ہوں ہم کسی کا میل کیوں لیں،اب بعض کا یہ کہنا کہ چونکہ سادات کو خمس نہیں ملتا اس لیے اب وہ زکوۃ لے سکتے ہیں غلط ہے کہ نص کے مقابل چونکہ اور کیونکہ نہیں سنا جاتا۔