| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ میں تین شرعی حکم ہوئے ۱؎ ایک حکم یہ کہ وہ آزاد کی گئیں تو انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا۲؎ اور فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ولا آزاد کرنے والے کے لیے ہے۳؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ ہانڈی گوشت سے ابل رہی تھی آپ کی خدمت میں روٹی اور گھر کا کوئی سالن پیش کیا گیا تو فرمایا کہ کیا مجھے گوشت کی ہانڈی نظر نہیں آرہی عرض کیا ہاں لیکن یہ وہ گوشت ہےجو بریرہ پر صدقہ کیا گیا اور حضور آپ صدقہ تو کھاتے نہیں تو فرمایا وہ ان پر صدقہ ہے ہمارے لیے ہدیہ ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ بریرہ رضی اللہ عنھا بروزن کریمہ صحابیہ ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ کی مولاۃ یعنی آزادکردہ لونڈی ہیں،آپ نے حضرت ابن عباس،عروہ ابن زبیر سے احادیث روایت کیں یعنی حضرت بریرہ کے ذریعہ ہم کو تین شرعی مسائل معلوم ہوئے۔ ۲؎ حضرت بریرہ کے خاوند کا نام مغیث تھا جو پہلے غلام تھا حضرت بریرہ کے آزاد ہونے کے وقت آزاد ہوچکے تھے،جب آپ آزاد ہوئیں تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو خیار عتق دیا کہ چاہیں نکاح باقی رکھیں یا فسخ کرادیں۔معلوم ہوا کہ لونڈی کو آزادی پر خیار عتق ملتا ہے خاوند غلام ہو یا آزاد۔اس کی پوری بحث ان شاءاﷲ کتاب النکاح اور کتاب العتق میں آئے گی۔ ۳؎ حضرت بریرہ ایک یہودی کی لونڈی تھیں جس نے آپ کو مکاتب کردیا تھا کہ اتنا مال دو تو تم آزاد ہو،آپ مال دینے سے عاجز ہوئیں تو حضرت عائشہ صدیقہ سے عرض کیا آپ نے فرمایا تمہارا مال میں دے دیتی ہوں اپنے مالک سے کہو کہ تمہیں میرے ہاتھ فروخت کردے پھر میں تم کو آزاد کردوں گی ان کے مالک نے کہا کہ ہاں ہم فروخت تو کردیں گے مگر اس شرط سے کہ تمہاری ولاء یعنی آزاد کرنے کا حق ہم کو رہے یہ مسئلہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ولاء آزاد کرنے والے کو ہے نہ کہ فروخت کرنے والے کو،یہ دوسرا مسئلہ حضرت بریرہ کے ذریعہ معلوم ہوا ولاء کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اگر آزاد کردہ غلام لاوارث فوت ہوجائے تو میراث مولے کو ملتی ہے اسی طرح اگر مولی لاوارث فوت ہو تو یہ غلام میراث لیتا ہے۔ ۴؎ یعنی بریرہ سے کہو کہ اپنے اس گوشت میں سے جو انہیں صدقہ ملا ہے ہم کو بھی دیں کیونکہ صدقہ ان پر ختم ہوچکا اب ہم کو بریرہ کی طرف سے ہدیہ ہوکر ملے گا جو ہمارے لیے مباح ہوگا۔اس سے تین مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بنی ہاشم کا آزادکردہ غلام زکوۃ نہیں لے سکتا مگر دوسروں کا غلام زکوۃ لے سکتا ہے،چونکہ حضرت عائشہ قرشیہ تو تھیں مگر ہاشمیہ نہ تھیں اس لیے بریرہ کو صدقہ لینا درست ہوا۔دوسرے یہ کہ اپنی بیوی یا بیوی کی لونڈی یا اولاد سے کچھ مانگنا جس میں ذلت نہ ہو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی جائز ہے چہ جائیکہ اور کوئی،جس سوال میں ممانعت ہے وہ ذلت والا سوال ہے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ سے گوشت طلب فرمایا۔تیسرے یہ کہ ملکیت بدل جانے سے حکم بدل جاتا ہے لہذا اگر فقیر کو زکوۃ دی گئی اس نے اس زکوۃ سے کسی غنی یا سید کی دعوت کردی یا وہ زکوۃ کی رقم کسی مسجد سرائے یا کنوئیں پر خیرات کرکے لگادی تو جائز ہے کہ زکوۃ تو فقیر پرختم ہوگئی اب یہ فقیر کی طرف سے ہدیہ ہے،دیکھو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ پر صدقہ کیا ہوا گوشت کھالیا کہ اب یہ ہدیہ و نذرانہ بن گیا تھا،اس سے بہت سے فقہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔حضرت ابن عمر کو جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا صدقہ دیا ہوا گھوڑا فقیر سے خریدنے کو منع فرمادیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو اس لیے رعایت دینا چاہتا تھا کہ آپ نے اسے صدقہ دیا تھا یہ رعایت کرانا ممنوع تھا لہذا احادیث میں تعارض نہیں ۔