روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی کے ننانوے نام ہیں جو ان کی حفاظت کرے گا ۱؎ جنت میں جائے گا وہ اﷲ وہ ہے کہ اس کے سواء کوئی معبود نہیں،مہربان ہے،رحم والا ہے ۲؎ بادشاہ ہے،پاک ہے،عیوب سے سلامت ہے ۳؎ امن دینے والا ہے،نگہبان ہے غالب ہے۴؎ بدلہ کرنے والا ہے،بلند ہے ۵؎ پیدا کرنے والا،ایجاد فرمانے والا،صورت دینے والا ۶؎ گناہ بخشنے والا ۷؎ غالب ہے،دین ہار ہے ۸؎ روزی رساں ہے ۹؎ کھولنے والا،علم والا ۱۰؎ تنگی و فراخی دینے والا ۱۱؎ نیچا اونچا کرنے والا ۱۲؎ عزت و ذلت دینے والا ۱۳؎ سننے دیکھنے والا ۱۴؎ حکومت و انصاف والا ۱۵؎ مہربانی کرنے والا،خبر رکھنے والا ۱۶؎ حلم و عظمت والا ۱۷؎ بخشنے والا،قدر دان ۱۸؎ بلندی و بزرگی والا ۱۹؎ حفاظت فرمانے والا،قوت دینے والا ۲۰؎ حساب لینے والا،۲۱؎ دعائیں قبول کرنے والا،فراخی دینے والا ۲۲؎ حکمت والا،بزرگی والا،اٹھانے والا ۲۳؎ حاضر۲۴؎ دائم کار ساز ۲۵؎ قوت و استواری والا ۲۶؎ مددگار لائق تعریف ۲۷؎ سب کو جاننے والا شروع کرنے والا،لوٹانے والا ۲۸؎ زندگی و موت بخشنے والا ۲۹؎زندہ ہمیشہ قائم ر کھنے والا ۳۰؎ وجود ہستی والا بزرگی والا ۳۱؎ ایک اکیلا ۳۲؎ لائق بھروسہ ۳۳؎ قدرت و قوت اقتدار والا ۳۴؎ آگے پیچھے کرنے والا ۳۵؎ سب سے پہلے سب سے آخر ۳۶؎ کھلا چھپا ۳۷؎ مددگار عظمت والا احسان فرمانے والا۳۸؎ توبہ قبول کرنے والا بدلہ لینے والا معافی دینے والا ۳۹؎ رافت والا ملک کا مالک ۴۰؎ غضب و کرم والا ۴۱؎ انصاف والا جمع فرمانے والا بے پرواہ اور بے پرواہ کرنے والا ۴۲؎ دینے والا نہ دینے والا نفع نقصان کا مالک ۴۳؎ روشن کرنے والا ہدایت دینے والا ۴۴؎ بے مثال ہمیشہ باقی وارث ۴۵؎ ہدایت دینے والا صبر والا ۴۶؎ (ترمذی)بیہقی دعوات کبیر ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۴۷؎
شرح
۱؎ چونکہ رب تعالٰی کے صفات و افعال بہت ہیں اس لیے اس کے نام بھی بہت ہیں،نیز اس کے بندوں کی حاجتیں بہت ہیں لہذا رب کے نام بھی بہت کہ بندہ جو حاجت لے کر آئے اسی نام سے اسے پکارے،بیمار پکارے یا شافی الامراض،گنہگار پکارے یا غفار،بدکار پکارے یا ستار وغیرہ۔خیال رہے کہ جتنے نام رب کے ہیں اتنے ہی نام رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے بھی ہیں جیساکہ کتب تصوف دیکھنے والوں پر ظاہر ہے۔ ۲؎ ان ناموں میں رب تعالٰی کے بہت سے مشہور نام نہیں آئے جیسے قدیم،وتر،شدید،کافی رب اکرم،اعلیٰ،اکرم الاکرمین،ذوالعرش المجید،فعال لما یرید،مالك یوم الدین،رفیع الدرجات،ذوالقوۃ المتین،ذوالعرش،ا حسن الخالقین وغیرہ وغیرہ۔اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی کے کل نام یہ نہیں ہیں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔رحمٰن کے معنے ہیں دنیا میں تمام بندوں پر رحم فرمانے والا اور رحیم کے معنی ہیں آخرت میں صرف مسلمانوں پر رحم فرمانے والا،چونکہ دنیا آخرت سے پہلے ہے اس لیے رحمن کا ذکر رحیم سے پہلے ہو،اکثر علماء نے لا الہ الا ھو کو اسم اعظم مانا ہے۔ ۳؎ دنیا کے بادشاہ تھوڑی زمین کے تھوڑے زمانہ میں بادشاہ ہوتے ہیں،رب تعالٰی بذات خود ہمیشہ سے بادشاہ ہے سارے عالموں کا مالک حقیقی ہے۔قدوس کے معنے ہیں امکان وحدوث سے پاک،کسی کے وہم و خیال میں آنے سے پاک۔سلام کے معنے ہیں عیوب سے پاک۔غرضکہ رب تعالٰی ذاتی و صفاتی عیوب سے ہرطرح پاک ہے لہذا قدوس اور سلام میں بڑا فرق ہے یا سلام کے معنے ہیں مخلوق میں سے اہل ایمان کو سلامتی و امن بخشنے والا۔ ۴؎ مؤمن کے معنے ہیں مخلوق کے لیے امن و امان کے سامان پیدا فرمانے والا،جسم کے لیے ہزار ہا بلائیں ہیں،ہر بلا سے حفاظت وامن کا ذریعہ الگ ہے،روح کے لیے بھی لاکھوں آفات ہیں ان کی امان کے لیے ایمان تقویٰ،عرفان پیدا فرمانے والا۔مھیمن کے معنے ہیں خلق کے اعمال،ارزاق،احوال کا حافظ۔عزیز وہ غالب ہے جس کے آستانہ تک کسی کی رسائی بغیر اس کی کرم فرمائی کے نہ ہوسکے اس معنے سے رب تعالٰی کے سوا کوئی غالب نہیں۔ ۵؎ جبار جبر سے بنا،بمعنی ٹوٹے کو جوڑنا،کسی کا حال درست کرنا،اسی سے ہے جبر،نقصان یعنی رب تعالٰی بندے کی برائیوں کا بدلہ بھلائیوں سے کرنے والا،ان کے ٹوٹے دلوں،شکستہ حالوں کو اپنے فضل و کرم سے جوڑنے والا۔متکبر تکبر سے بنا جس کا مادہ ہے کبر،تکبر کے معنے ہیں انتہائی بڑائی یعنی مخلوق کے خیال و گمان سے وراء۔شعر اے برتراز خیال و قیاس و گمان و وہم و ازہرچہ گفتہ اند شنیدیم و خواندہ ایم بندہ متکبر وہ کہلاتا ہے جو بڑا نہ ہو اور اپنے کو بڑا جانے یعنی شیخی خورا۔ ۶؎ یہ تینوں لفظ قریب المعنی ہیں۔خالق کے معنے ہیں اندازہ لگانے والا۔باری کے معنے ہیں نیست کو ہست کرنے والا جو کچھ نہ ہو اسے سب کچھ کردینے والا۔مصور کے معنے ہیں ہر چیز کو اس کے لائق صورت نقش عطا فرمانے والا لہذا خلق پہلے ہے پھر برء پھر تصویر۔حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا تھا:"اَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ"رب تعالٰی نے فرمایاہے:"وَّ تَخْلُقُوۡنَ اِفْکًا"اور فرماتاہے: "فَتَبٰرَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیۡنَ"۔تمام آیتوں میں خلق بمعنی اندازہ کرنا ہے۔ ۷؎ غفار غفر سے بنا،بمعنی چھپانا،غفار کے معنے ہیں دنیا میں بندے کے گناہ چھپانے والا اور آخرت میں معاف فرمانے والا،معافی بھی چھپانے ہی کی ایک قسم ہے۔خیال رہے کہ غفار بھی مبالغہ کا صیغہ ہے اور غفوربھی اور یہ دونوں رب تعالٰی کے نام ہیں مگر غفار میں مقدار کے لحاظ سے مبالغہ ہے اور غفور میں کیفیت کے لحاظ سے مبالغہ،کروڑوں گناہوں کو چھپانے وبخشنے والا اور ہر طرح چھپانے بخشنے والا۔ ۸؎ قہار قہر سے بنا،بمعنی جائز غلبہ۔ناجائز دباؤ کو ظلم کہا جاتا ہے۔قہار مبالغہ ہے یعنی رب تعالٰی ایسا عظیم الشان غالب ہے کہ بڑی سے بڑی مخلوق اس کے دربار میں عاجز و سرنگوں ہے۔وھاب ھبہ سے بنا جس کے معنے ہیں بغیر عوض و بغیر غرض و لالچ دینا،وھاب مبالغہ ہے یعنی رب تعالٰی ہر مخلوق کو ہر چھوٹی بڑی نعمت بغیر معاوضہ بغیر کسی طمع ہر وقت دیتا ہے،معطی عام ہے وھاب خاص،رب کی عطا بالواسطہ بھی ہے اور بلاواسطہ بھی،فرماتاہے:"وَمَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللہِ"لہذا ہمیں بذریعہ انبیاء اولیاء یا بذریعہ اغنیاء کچھ ملنا اس کی وہابیت کے خلاف نہیں۔ ۹؎ رزاق رزق سے بنا،بمعنی حصہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تَجْعَلُوۡنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوۡنَ"۔ رزاق کے معنی ہیں ہر ایک کا حصہ پیدا فرمانے والا اور اس کے مستحق کو پہنچانے والا۔رزق دو قسم کا ہے:رزق صوری جس کا تعلق جسم سے ہے اور رزق معنوی جس کا تعلق روح و دل سے ہے۔روٹی،پانی،دوا جسمانی روزی ہے،ایمان،عرفان،قرآن وغیرہ روحانی روزی جیسے جسمانی روزی میں لوگ مختلف ہیں کسی کو زیادہ ملی کسی کو کم ایسے ہی روحانی روزی میں لوگ مختلف ہیں۔ ۱۰؎ یعنی اپنی رحمت کے دروازے اپنی مخلوق پر کھولنے والا اور ہرمستحق کا حال و استحقاق خوب جاننے والا۔علّام علم کا مبالغہ ہے اور علیم بھی مگر ان میں وہ ہی فرق ہے جو غفار و غفور میں عرض کیا گیا،غفار کا تعلق علیم سے بہت نفیس ہے جو رب تعالٰی کے علیم و خبیر ہونے پر دھیان رکھے وہ گناہ پر دلیری نہ کرسکے گا۔ ۱۱؎ اس طرح کہ جس بندے کا رزق حسی یا معنوی جب چاہتا ہے کم کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے زیادہ کردیتا ہے،بڑے ہنرمند کبھی فقیر ہو جاتے ہیں اور بڑے بے ہنرکبھی امیر ہوجاتے ہیں،قبض و بسط ہر چیز میں ہوتا رہتا ہے،انبیاء و اولیاء کبھی عالَم کی خبر رکھتے ہیں،کبھی اپنی بھی خبر نہیں پاتے۔شعر بگفت احوال آں برق جہاں است دمے بیدار دیگر دم نہاں است گہے برطارم اعلی ٰ نشینم گہے برپشت پائے خود نہ بینم ۱۲؎ کافروں کو ذلت سے نیچا اور مؤمنوں کو عزت سے اونچا،دشمنوں کو بدبختی سے نیچا،دوستوں کو خوش نصیبی سے اونچا کرنے والا یا غافلوں کو نفس میں پھنساکر نیچا،عاشقوں کو اپنی محبت کے اعلیٰ علیین میں پہنچا کر اونچا فرمانے والا۔بندے کو چاہیے کہ اپنے کسی حال پر بھروسہ نہ کرے،ڈور رب کے ہاتھ میں مخلوق پتنگ کی طرح اس کے قبضے میں ہے۔ ۱۳؎ یعنی اپنے دوستوں کو دنیا میں گناہوں سے بچاکر،نیکیوں کی توفیق دے کر،پھر ان کی مغفرت فرماکر،پھر انہیں دارکرامت تک پہنچا کر،پھر انہیں اپنا دیدار دکھا کر عزت دینے والا۔اور اپنے دشمنوں کو دنیا میں توفیق خیر سے محروم رکھ کر،اپنی معرفت سے نا آشنا کرکے آخرت میں دار عقوبت میں داخل کرکے،پھر اپنی لعنت کا طوق گلے میں ڈال کر ذلت و خواری دینے والا حقیقی عزت و ذلت یہ ہے۔ ۱۴؎ یعنی ہر ایک کی ہر طرح ہر وقت زبان و دل خطرات کی آواز سننے والا ہر حال دیکھنے والا مگر کان و آنکھ سے وراء کہ کان و آنکھ بدلتے رہتے ہیں پھر ان کی طاقتیں محدود ہیں،رب تعالٰی بدلنے اور محدود ہونے سے پاک ہے۔خیال رہے کہ یہ صفتیں صفت علم کے علاوہ ہیں۔ ۱۵؎ ایسا حاکم کہ اس کے حکم کی کہیں اپیل نہیں،اس کے فیصلہ میں خطا و غلطی کا احتمال نہیں،ایسا عادل کہ کسی پرکسی طرح ظلم نہیں۔خیال رہے کہ رب تعالٰی کے حکم دو قسم کے ہیں:تکوینی و تشریعی۔تکوینی احکام میں ہم مجبور ہیں،تشریعی احکام میں ہم بااختیار اس لیے تکوینی پر سزا و جزا نہیں،تشریعی احکام پر سب کچھ ہے۔اور عدل مصدر ہے،بمعنی عادل،یہ عدل ظلم کا مقابل ہے نہ کہ رحم کا،اﷲ تعالٰی کفار پر عدل فرمائے گا،مؤمن گنہگار پر عدل نہ کرے گا بلکہ فضل و کرم کرے گا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب وہ عادل ہے تو رحیم کیسے ہوا۔ ۱۶؎ لطیف کے بہت معنے ہیں اس کی ذات فہم و ادراک سے وراء مولانا فرماتے ہیں۔شعر یا خفی الذات محسوس العطاء انت کالماء و نحن کالوحی انت کالریح و نحن کالغبار یختقی الریح وعنبراء جھاد ایسی مہربانیاں فرمانے والا جو ہماری عقل سے وراء ہیں۔شعر جھولیاں سب کی بھرتی رہتی ہیں دینے والا نظر نہیں آتا ایسی نعمتیں دینے والا جو بندے کو دونوں جہان میں کام آئیں یا لطیف و باریک چیزوں کا دیکھنے جاننے والا۔چیز کے معنے ہیں ہر وقت ہر ظاہر و باطن پر اطلاع رکھنے والا بلکہ ہماری پیدائش سے پہلے ہمارے ہر حال سے خبردار۔ ۱۷؎ حلم کے معنے ہیں آہستگی و بردباری یعنی رب تعالٰی مستحق سزا کو جلدی نہیں پکڑتا توبہ کی مہلت دیتا ہے یا دنیا میں بُروں پر بھی کرم و مہربانی فرماتا ہے۔عظیم عظمت سے بنا،بمعنی بڑائی،بڑائی جسمانی بھی ہوتی ہے اور رتبے و عزت کی بھی،یہاں عظمت و عزت کی بڑائی مراد ہے یعنی ایسی عظمت والا کہ کسی کا گمان و وہم وہاں کام نہ کرسکے۔شعر تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا پہچان گیا میں تیری پہچان یہی ہے ۱۸؎ غفار کے معنے بھی ہیں بخشنے والا اور غفور کے معنے بھی ہیں بخشنے والا۔بہت سے گناہوں کو بخشنے والا غفار،ہمیشہ بڑے گناہوں کو بخشنے والاغفور،یعنی غفار میں مقدار کا مبالغہ ہے اور غفور میں کیفیت کا مبالغہ۔شعر گنہِ رضاؔ کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سوا مگر اے غفور ترے عفو کا حساب ہے نہ بے شمار ہے شکر جب بندے کی صفت ہو تو اس کے معنے ہیں انعام پاکر منعم کی حمدوثناء بجالانا اور جب رب تعالٰی کی صفت ہو تو معنے ہوتے ہیں تھوڑے عمل پر بہت فضل فرمانا جس کا ترجمہ قدر دان بہت مناسب ہے کہ وہ کریم نہ بندہ کے لائق جزاء دیتا ہے نہ اس کے کام کے لائق بلکہ اپنی شان کے لائق دیتا ہے،ایک نیکی پر ہزاروں جزائیں،ایک نماز پر وضو کرنے کی جزاء علیٰحدہ،مسجد کے ہر قدم کی جزاء علیٰحدہ،پھر مسجد میں آکر انتطار نماز کی جزاء علیٰحدہ،پھر نماز میں قیام کی جزاء علیٰحدہ،رکوع کی سجود کی قرأت و تسبیح کی جزاء علیٰحدہ،بعدنماز دعا مانگنے کی جزائیں علیحدہ علیٰحدہ۔غرض اس کی عطا کا شمار نہیں ہر عبادت کا یہ ہی حال ہے اے شکور اس بندہ گنہگار کی یہ محنت قبول فرما اور اسے صدقہ جاریہ بنا۔آمین بجاہ حبیبك الکریم! ۱۹؎ بلندی صفائی رکھنے والا علی اور بلندی ذات والا کبیر۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ علی وہ جس کے صفات تک عقل نہ پہنچ سکے۔کبیر وہ جس کے تصور ذات سے ذہن عاجز ہو۔علی کا مقابل حقیر ہے،کبیر کا مقابل صغیر۔حق تعالٰی کا رتبہ سب سے اونچا سارے رتبہ والے اس سے نیچے۔اﷲ تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنی تمام صفات کی عمومًا اور ان دو صفتوں کی خصوصًا تجلی ڈالی ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات و صفات ہمارے وہم و گمان سے وراء ہیں۔شعر اﷲ اﷲ آپ کا رتبہ صلی اللہ علیہ و سلم پڑھتی ہے دنیا رُتبے کا خطبہ صلی اللہ علیہ و سلم ۲۰؎ کہ تمام عالم اور عالم کی چیزوں کا بربادی سے محفوظ رہنا اس کی حفاظت کے باعث ہے ہمارے مزاج میں چار دشمنوں کو جمع فرمادیا،پھر ان میں سے ہر ایک محفوظ،یہ ہے اس کی شان حفیظی۔مقیت قوت سے بنا،بمعنی روزی یعنی جسمانی،جنانی،روحانی روزیاں پیدا فرمانے والا اور ہر ایک کو اس کے لائق روزی دینے والا کہ چیونٹی کو کن ہاتھی کو من دیتا ہے۔رزق و قوت میں فرق ہے اسی طرح رزاق اور مقیت میں فرق ہے۔ ۲۱؎ حسیب بمعنی کافی بھی ہے یعنی اﷲ ہر بندے کو ہر طرح کافی بھی ہے اسی واسطے بندے کہتے ہیں حسبی اﷲ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَحَسْبُہٗ"یا بمعنی حساب لینے والا کہ ساری خلق کا حساب چار گھنٹے میں لے لوں گا"اِنَّ اللہَ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ"یا دنیا میں ہر بندے کو حساب سے روزی دے رہا ہے۔جلیل کے معنے ہیں صفات جلالیہ سے موصوف یعنی بزرگی،جلالت و قدر والا۔امام غزالی نے فرمایا کبیر کمال ذاتی اور جلیل کمال صفاتی پر دال ہے۔کریم وہ ہے جو مجرم پر قادر ہوکر معافی دے دے،وعدہ کرے پورا کرے اور امید سے زیادہ دے اور اپنے پناہ لینے والے کو ضائع نہ کرے تمام وسیلوں سے بے نیاز ہو۔غرضکہ ایک لفظ کریم محامد کا مجموعہ ہے۔رقیب وہ حافظ جس کی حفاظت سے کوئی چیز ایک لمحہ کے لیے باہر نہ ہوسکے،رقابت میں علم و حفظ ہے لزوم ہے۔ ۲۲؎ مجیب کے معنے ہیں پکارنے والے کو جواب دینے والا یا مانگنے والوں کی دعائیں،آرزوئیں پوری کرنے والا بلکہ ہماری پیدائش سے پہلے ہماری ضروریات پوری فرمانے والا۔شعر مانہ بودیم و تقاضائے مانبود لطف تو باگفتہ مامے شنود واسع وسعت سے بنا،بمعنی فراخی یا احاطہ۔رب ایسا واسع ہے کہ اس کا علم اس کی قدرت،رحمت،حکمت اور اس کی عطا فرش کو گھیرے ہے"وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ"۔کرسی کی نہایت نفیس تفسیر ہماری"تفسیرنعیمی"میں ملاحظہ کیجئے آیت الکرسی کے ماتحت۔ ۲۳؎ حکیم حکم سے ہے یا حکمت سے یعنی ہر چیز پر اعلیٰ حاکم کہ اس کے فیصلہ پر کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں یا اس کا ہر کام حکمت سے ہے کوئی چیز عبث نہیں بنائی۔ودود ودٌّ سے بنا،بمعنی صحیح محبت یعنی اپنے دوستوں سے ان کے اچھے اعمال سے محبت فرمانے والا،اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کی ہر ادا کو پسند فرمانے والا۔مجید مجد سے بنا،بمعنی بزرگی یعنی ایسی بزرگی والا کہ اس کی بزرگی تک کسی کے وہم کی رسائی نہیں یا ہر طرح بزرگ کہ اس کی ذات و صفات و افعال سب بزرگ۔باعث بعث سے بنا،بمعنی اٹھانا یعنی سوتوں کو نیند سے،مردوں کو قبروں سے،مردہ دلوں کو علم سے اٹھانے والا۔غرضکہ باعث میں بہت وسعت ہے۔ ۲۴؎ شہید شہادت سے بنا یا شہود سے یعنی رب تعالٰی بندے کے ہر عمل کا گواہ ہے کہ وہ ہر وقت ہر عمل کو مشاہدہ کررہا ہے یا ہر جگہ حاضر ہے مؤمنوں کے ایمان میں حاضر،عارفوں کی جان میں حاضر۔خیال ر ہے کہ رب تعالٰی کا نام شہید ہے حاضر نہیں کیونکہ رب کی ذات جسمانی یا مکانی حضور سے پاک ہے اور اس کا علم و قدرت و رحمت ہر جگہ موجود ہے۔حضور و شہود میں بڑا فرق ہے رب کی ذات ہر جگہ میں نہیں کہ مکان سے پاک و منزہ ہے۔ ۲۵؎ حق باطل کا مقابل ہے،باطل بمعنی معدوم ہے تو حق بمعنی ثابت و موجود،رب تعالٰی ایسا موجود ہے کہ اس کے وجود کو فنا نہیں اور تمام موجودات اس کے کرم سے موجود ہیں جیسے تمام دھوپیں اور سایے آفتاب کے فیض سے ہیں۔رب تعالٰی گویا سورج ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم گویا دیوار،ساری خلق اس دیوار کا سایہ کہ اگر درمیان سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات ہٹ جائے تو رب ہی ہو خلقت ختم ہوجائے۔مصرع اصل سے ہے ظل بندہا تم پہ کروڑوں درود۔ ۲۶؎ امام غزالی نے فرمایا کہ قوت کے معنے ہیں کامل قدرت اور متانت کے معنے ہیں اس قدرت کی پختگی و مضبوطی،رب تعالٰی فرماتاہے:"ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیۡنُ"یعنی وہ مضبوط قدرت و طاقت والا ہے۔حول،قوت، قدرت میں بڑافرق ہے جسے مرقات نے اس جگہ بہت تفصیل سے بیان کیا۔ ۲۷؎ ولی یا تو ولی سے ہے،بمعنی قرب یا ولایۃ سے،بمعنی والی ہونا یا مدگار ہونا یعنی اﷲ تعالٰی اپنے دوستوں کی ان کے دشمنوں کے مقابل مدد فرمانے والا ہے یا ان کا والی وارث و متولی امور ہے،فرماتاہے:"وَ اللہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیۡنَ" اور فرماتاہے:"اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا"یا اﷲ تعالٰی اپنے دوستوں سے قریب ہے۔حمید حمد سے بنا،بمعنی اسم فاعل یا بمعنی اسم مفعول یعنی اﷲ اپنے محبوبوں کی حمد فرماتا ہے اسی لیے اس کا نام حامد ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا نام محمد۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا نام محمد ہے یعنی بہت ہی حمد کئے ہوئے اور رب کا نام ہے محمود یعنی حمد کیا ہوا کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تو اﷲ کے محمد ہیں اور اﷲ تعالٰی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا محمود اور ظاہر ہے کہ اﷲ کی حمد بہت اعلیٰ اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی محمودیت بہت اکمل۔ ۲۸؎ محصی احصاءسے بنا،بمعنی شمار کرنا اور گننا یعنی اﷲ تعالٰی ایسا علیم ہے کہ سب کو تفصیلی عدد وار جانتا ہے اس کا علم گول مول اجمالی نہیں جیسے عظیم الشان مجمع دیکھ کر ہم کو مجمع کا اجمالی علم ہوجاتا ہے کہ دس ہزار آدمی ہیں مگر ان کی تفصیل نہیں معلوم ہوتی بلکہ اس کا علم تفصیلی ہے اس نے خلق کو پہلے پیدا کیا لہذا وہ مبدی ہے وہ قیامت میں سب کو دوبارہ اٹھائے گا وہ معید ہے یا اس نے ہم کو پہلے مٹی سے بنایا لہذا وہ مبدی ہے اور وہ ہی ہم کو موت دے کر پھر مٹی ہی میں لوٹا دیتا ہے لہذا وہ معید ہے۔خیال رہے کہ مردہ خواہ دفن ہو یا جلا دیا جائے یا اسے جانور کھا جائے آخر کار بنتا مٹی ہی ہے کہ جل کر راکھ بنا یا جانور کے پیٹ میں پاخانہ بنا،پھر وہ راکھ یا پاخانہ مٹی بن گئی،رب تعالٰی نے فرمایا:"مِنْہَاخَلَقْنٰکُمْ وَفِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ"بالکل حق ہے۔ ۲۹؎ کہ جسموں کو جان سے اور جان کو ایمان سے،جنان کو عرفان سے،انسان کو علم و معرفتِ رحمان سے، زمین کو سبزوں سے زندگی بخشتا ہے،پھر کفار کو کفر سے،غافلوں کو غفلت سے موت دیتا ہے۔ ۳۰؎ یعنی وہ خود زندہ و قائم ہے دوسروں کو زندہ و قائم رکھتا ہے کہ تمام کی بقاء اسی سے ہے اگر اس سے نسبت نہ رہے تو کوئی کچھ نہ رہے۔صوفیاء کی اصطلاح میں ولایت کا ایک درجہ بھی قیومیت کہلاتا ہے جس پر پہنچ کر بندہ قیوم کہلاتا ہے،وہاں قیوم کے معنے ہیں باعث قیام عالم۔لفظ قیوم ایک ہے مگر رب تعالٰی کے لیے ایک معنی ہیں اور بندے کے لیے دوسرے معنے میں جیسے حیی،سمیع،بصیر اﷲ تعالٰی کی بھی صفت ہے اور اس کے بندوں کی بھی مگر مختلف معنے سے اسی لیے اولیاءاﷲ کو قیوم اول،قیوم ثانی وغیرہ کہاجاتاہے۔ ۳۱؎ کہ وہ ہی واجب الوجودہے سب اسی کے موجود کرنے سے موجود ہیں،حقیقی بزرگی اسی کی ہے اور سب اس کے بنانے سے بزرگ بنے،واحد بمعنی کامل وجود و ہستی والا۔ ۳۲؎ واحد بمعنی ایک اور احد بمعنی اکیلا ویگانہ یعنی ذاتًابھی ایک کہ اس کے سوا دوسرا رب نہیں صفاتًا بھی ایک کہ اس جیسا کوئی نہیں،افعالًا بھی ایک کہ اس جیسا کوئی جمیل افعال والا نہیں لہذا واحد اور احد میں تکرار نہیں۔ ۳۳؎ صمد کے بہت معنے ہیں:وہ مالک جہاں سرداری و مالکیت ختم ہے۔وہ بے خوف جسےکسی کا ڈر نہیں حاجت و آفت سے منزہ و بری و باقی جسے فنا نہیں،وہ مولے جس پر سارے بندے بھروسہ و توکل کریں۔صمود سے مشتق،بمعنی مقصد و ارادہ یعنی لائق توکل و بھروسہ اسی کی ذات ہے۔شیخ نے فرمایا کہ اس اسم کی تجلی جس پر پڑ جائے وہ کونین سے بے نیاز ہوجاتا ہے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے علم و ایمان و عرفان کسی سے حاصل نہ کیا سب نے سب کچھ حضور سے حضور نے اپنے پروردگار سےصلی اللہ علیہ وسلم ،یہ ہے صمد کی تجلی۔ ۳۴؎ قادرومقتدر دونوں قدرت سے بنے مگر مقتدر میں مبالغہ ہے۔قادر جو مختار ہوچاہے کرے یا نہ کرے دے یا نہ دے،مقتدر وہ کہ اپنے کسی کام میں کسی کی مدد کا حاجت مند نہ ہو۔ ۳۵؎ یا ذاتًا آگے پیچھے کرنے والا جیسے اسباب کو آگے کردیا یا مسببات کو پیچھے،ماں باپ کو آگے اولاد کو پیچھے فرمادیا یا صفاتًا کہ انبیاء و اولیاء کو درجے و مراتب میں سب سے آگے فرمادیا یا دوسروں کو ان کے پیچھے لگادیا یا ہمارے حضور کو آگے بھی کردیا کہ حضور ہی کا نور سب سے پہلے پیدا ہوا(صلی اللہ علیہ و سلم )اور پیچھے بھی فرمادیا کہ آپ کا ظہور پیچھے ہوا(صلی اللہ علیہ و سلم)اس آگے پیچھے کے لذیذ معانی ہماری کتاب"شان حبیب الرحمن"میں ملاحظہ فرمائیے۔ ۳۶؎ اس طرح کہ ہمیشہ سے ہے جس کی ابتداء نہیں لہذا وہ آگے ہے اور ہمیشہ تک رہے گا جس کی انتہاء نہیں لہذا وہ سب سے پیچھے بھی ہے یا وجود میں اول ہے سلوک میں آخر یا سب کی ابتداءبھی اسی سے ہے لہذا اول ہے اور سب کی انتہاءبھی اس پر لہذا وہ آخر سب اسی کی طرف لوٹیں گے۔شعر نہ گل چمن میں رہے گا نہ گل میں بو باقی مٹیں گے سارے تجھی پر رہے گا تو باقی ۳۷؎ صفات،رحمت عطا سے سب پرکھلا ذات سب سے چھپی۔شعر بے حجابی میں یہ کہ ہر ذرہ میں جلوہ آشکار اس پہ یہ پردہ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے یار تیرےحسن کو تشبیہ دوں کس چیزسے ایک تو ہی دیدہ ہے تیرے سوا نا دیدہ ہے ۳۸؎ یعنی سب کا والی وارث،سب کے خیال و وہم سے بالا،تمام عیوب سے منزہ،سب پر احسان فرمانے والا کہ جسے جو دیا اپنے کرم سے دیا نہ کہ اس کے استحقاق سے،بڑے بڑے گنہگاروں کی توبہ قبول فرماکر انہیں بخشنے والا،بار بار توبہ کی توفیق دینے والا بلکہ گنہگاروں کو پکار پکار کر بلانے والا کہ"لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ"،"اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا"جب وہ توبہ کی توفیق دیتاہے تو بندہ توبہ کرتا ہے فرماتاہے: "ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمْ لِیَتُوۡبُوۡا"توبہ بندے کی بھی صفت ہے،بمعنی گناہوں سے رجوع کرنا اور رب کی صفت ہے،بمعنی ارادۂ عذاب سے رجوع فرمالینا۔ ۳۹؎ یعنی کفار غدار سے بدلہ لینے والا،مؤمن گنہگار کو معافی دینے والا وہ عدل ہے یہ فضل،غفور سے عفو زیادہ مبالغہ ہے کہ غفر کے معنے ہیں چھپانا،عفو کے معنے ہیں مٹانا،غفور عیبی کے عیب چھپانے والا عفو عیبوں کو مٹانے والا۔ ۴۰؎ رؤف رافتہ سے بنا،بمعنی بے حد رحمت جس کی انتہاء نہ ہو۔بعض عشاق نے فرمایا کہ بندے کی حاجت کی بنا پر احسان کرنا رحمت ہے اور اپنی عادت کی بنا پر احسان فرمانا رافتہ،ملک ظاہر خلق ہے اور ملکوت باطنی خلق،اﷲ تعالٰی ہمارے جسموں کا مالک ہماری روح کا مالک لہذا وہ مالک الملک بھی اور مالکِ ملکوت بھی۔ ۴۱؎ ذوالجلال رب کی صفت ذایتہ ہے اور اکرام اس کی صفت فعلیہ یعنی جلال اسکی ذات میں ہے اور اکرام مخلوق پر ہے،بعض نے فرمایا کہ یہ اسم اعظم ہے۔ ۴۲؎ قسط کے معنےظلم بھی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاَمَّا الْقٰسِطُوۡنَ فَکَانُوۡا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا" اوربمعنی عدل و انصاف بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاَقِیۡمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ"مگر جب یہ باب افعال میں آئے تو عدل و انصاف ہی کے معنے میں ہوتا ہے یعنی عدل قائم کرنا یا ظلم زائل کرنا،مقسط کے معنے ہوئے مظلوموں سے ظالموں کا ظلم دور فرمانے والا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ"۔ جامع کے معنے خود تمام صفات کمالیہ کا جامع ہے کہ تمام خوبیاں اس میں جمع ہیں یا تمام بکھری خلق کو قیامت میں جمع فرمائے گا،رب تعالٰی فرماتاہے:"رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ"یا تمام بکھرے انسان کو بذریعۂ اسلام قرآن ایمان میں جمع فرمانے والا خود نما ہے کہ اسےکسی کی حاجت نہیں اور مغنی بھی ہے کہ جسے چاہے اپنے ماسواء سے غنی و بے نیازکردے اور اسے رب کے سوا کسی کی حاجت نہ رہے۔ ۴۳؎ یعنی جسے جو چاہے دے جسے جو چاہے نہ دے،بے پرواہ جو ہوا یا لائق کو دینے والا نالائق کو نہ دینے والا یا اسباب خیر دینے والا اور اسباب شر نہ دینے والا کہ بندہ مانگتا ہے مگر وہ اپنے کرم سے نہیں دیتا اور نفع و نقصان سب اسی کی ملک ہے کسی کو نفع دیتا ہے تاکہ وہ شاکر بن کر قرب حاصل کرے کسی کو نقصان دیتا ہے کہ وہ صبرکرکے قریب ہو۔ ۴۴؎ نور وہ جو بذات خود ظاہر ہو اور دوسروں کو ظاہرکرے،رب تعالٰی خود نور ہے کہ ظاہر بھی ہے اور اس نے اپنے محبوبوں کو خلق پر ظاہر بھی کردیا یا رب تعالٰی نور بخشنے والا ہے اپنے محبوبوں کو نور بنانے والا ہے،فرماتا ہے:"اَللہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ"اور فرماتاہے:"قَدْ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللہِ نُوۡرٌ"ہدایت کے معنے راہ دکھانا بھی ہیں اور مقصود پر پہنچانا بھی اﷲ تعالٰی دونوں معنے سے ہادی ہے۔ ۴۵؎ بدیع کے معنے ہیں خود بے مثال کہ کوئی ذات صفات میں اس کا مثل نہیں فرماتاہے:"لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ"یا بغیر مثال عالم بنانے والا یعنی موجد فرماتاہے:"بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ"یا اپنے بندوں میں سے بعض کو بے مثال کرنے والا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کو بے مثال پیدا فرمایا باقی کے معنے ہیں دائم الوجود کہ کبھی فنا نہ ہو وارث کے معنے ہیں بندوں کو فنا کے بعد باقی رہنے والا جب کوئی دعویدار نہ رہے تو بھی وہ رہے فرماتاہے:"اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیۡہَا"وراثت کے دوسرے معنے سے رب تعالٰی پاک ہے یعنی مخلوق کے بعد مالک ہو پہلے نہ ہو۔معاذاﷲ! ۴۶؎ رشید و ہادی دونوں کے معنے میں ہدایت دینے والا مگر ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ الہامی فطری ہدایت کو رشد کہتے ہیں اور اختیاری ہدایت کو ہدایت،سارے انسان بلکہ تمام جانور کھانے اور نہ کھانے کی چیزوں کو پہچانتے ہیں،یہ رشد ہے اور بذریعہ انبیائے کرام بعض کو ایمان ملتا ہے یہ رب کی ہدایت ہے رُشد کا مقابل غوایۃ ہے اور ہدایت کا مقابل ضلالت ہے رشید،غی اور مہتدی،ضال آپس میں مقابل ہیں۔صبور صبر سے بنا،بمعنی روکنا،ٹھہرنا،اگر یہ بندے کی صفت ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں گھبراہٹ سے اپنے کو روکنا اگر رب تعالٰی کی صفت ہو تو معنے ہوتے ہیں مجرموں کے عذاب میں جلدی نہ فرمانا وقت سے پہلے کوئی کام نہ کرنا صبور وہ جو جلدی نہیں مگر دیر سے سزا دے۔حلیم وہ جو کبھی سزا نہ دے رب تعالٰی کفار کے لیے صبور ہے اور گنہگار مؤمن کے لیے حلیم ہے،کریم ہے،رحیم ہے۔ ۴۷؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ تمام اسماء الہیہ آیات و دیگر احادیث میں بھی آئے ہیں مگر صبور اس روایت کے سواء نہ کسی حدیث میں نہ آیت میں ہاں،ایک حدیث میں یہ ہے"مَااَحَدٌ اَصْبَرَ عَلٰی اَذًی یَسْمَعُہٗ مِنَ اﷲِ"۔