| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت بریدہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا کہ الٰہی میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تو معبود ہے تیرے سواء کوئی معبود نہیں ایک ہے لائق بھروسہ ہے جس نے نہ جنا اور نہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ۱؎ تو حضور انور نے فرمایا اس نے اﷲ کے اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے ۲؎ جب اسم اعظم سے مانگا جائے تو دیتا ہے اور جب اس نام سے دعا کی جائے تو قبول کرتا ہے ۳؎ (ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی مولا تیرے ناموں کے توسل وسیلہ سے تجھ سے دعا مانگ رہا ہوں ان ناموں کے صدقے سے میری سن لے،یہ دعا مانگنے والے حضرت ابو موسیٰ اشعری تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ وسیلہ کے ساتھ دعا کرنا بہتر ہے وسیلہ خواہ اسماء الہیہ کا ہو خواہ اس کے کسی محبوب بندے کا۔ ۲؎ بعض علماء نے فرمایا کہ اﷲ اسم اعظم ہے کیونکہ یہ اسم ذات ہے جو سوائے خدا تعالٰی کے کسی پر نہیں بولا جاتا،بعض نے فرمایا کہ"لا الہ الا انت"اسم اعظم ہے۔بعض کے خیال میں رب تعالٰی کے بعض نام بعض کے مقابلہ میں اسم اعظم ہیں جیسے رحمن بمقابلہ رحیم کے اسم اعظم ہے۔ ۳؎ اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ دعا میں اَللّٰھُمَّ کہنا بہت بہتر ہے کہ اﷲ اسم ذات ہے اورمیم میں تمام ان ناموں کی طرف اشارہ ہےجن کے اول میں میم ہےجیسےملك،مالك،منان وغیرہ۔ دوسرے یہ کہ دعائے آداب سے یہ ہے کہ پہلے حمد الٰہی کرے پھر حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم پر درود شریف، پھر اپنے گناہوں کا اعتراف،پھرعرض حاجات۔تیسرے یہ کہ اﷲ یا اَللّٰھُمَّ یا لا الہ الا انت اسم اعظم ہے۔