Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
511 - 5479
کتاب أسماء  ﷲ تعالٰی

اﷲ تعالٰی کے ناموں کابیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  اﷲ تعالٰی کے بہت نام ہیں جن میں سے ایک نام ذاتی ہے اﷲ،باقی نام صفاتی۔صفاتی نام تین قسم کے ہیں: صفت سلبی پر دلالت کرنے والے جیسے سبحان،قدوس،اولیٰ وغیرہ،صفت ثبوتیہ حقیقیہ پر دال جیسے علیم،قادر یا ثبوتیہ اضافیہ پر دال جیسے حمید،ملیك،مالك،الملك وغیرہ یا صفت فعلیہ پر دال جیسے رازق،خالق وغیرہ۔حق یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی کے نام توقیفی ہیں کہ شریعت نے جو بتائے ان ہی ناموں سے پکارا جائے اپنی طرف سے نام ایجاد نہ کئے جائیں اگرچہ ترجمہ ان کا صحیح ہو لہذا رب کو عالم کہہ سکتے ہیں عاقل نہیں کہہ سکتے،اسے جواد کہیں گے نہ کہ سخی،حکیم کہیں گے نہ کہ طبیب،خدا رب کانام نہیں بلکہ ایک صفت یعنی مالک کا ترجمہ ہے جیسے پروردگار،پالنہار،بخشنے والا وغیرہ۔خدا تعالٰی کے بعض نام مخلوق پربھی بولے جاتے ہیں جیسے رؤف،رحیم اﷲ کا نام بھی ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بھی مگر مخلوق کے لیے ان ناموں کے اور معنے ہوں گے۔جب کسی صفت الٰہی کی تجلی بندے پر پڑتی ہے تو اس وقت اس پر وہ نام بولاجاتاہے۔
حدیث نمبر 511
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو ۱؎ جو ان ناموں کی محافظت کرے جنت میں جائے گا ۲؎ اور ایک روایت یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی طاق ہے طاق کو پسندکرتا ہے۳؎ ہے۔(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ حق تعالٰی کے دو سو ایک نام دلائل الخیرات شریف میں بیان ہوئے ہیں اور مدارج النبوت میں شیخ نے رب تعالٰی کے ایک ہزار نام گنائے،یہاں تو ننانوے نام وہ گنائے گئے جن کا یادکرنا جنتی ہونے کا ذریعہ ہے کل نام یہ نہیں ہیں۔ان ناموں میں سے بعض ذاتی ہیں،بعض صفاتی،بعض افعالی لہذا اس حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حق تعالٰی کے نام ننانوے سے زیادہ ہیں اور نہ یہ کہ رب کی صفات کمالیہ تو آٹھ ہیں پھر صفاتی نام زیادہ کیوں ہوئے۔

۲؎  یعنی جو مسلمان یہ نام یادکرے اور روزانہ ان کا ورد کیا کرے وہ ان شاءاﷲ اول ہی سے جنت میں جائے گا۔

۳؎ یعنی حق تعالٰی ذات و صفات میں وحدہٗ لاشریك ہے،وہ ان اعمال کو پسند فرماتا ہے جن میں اخلاص ہو،شرک کا شائبہ نہ ہو اور اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو دنیا سے کٹ کر اس کا ہورہے،غرضکہ دوسرے وتر میں بہت احتمالات ہیں۔
Flag Counter