۱؎ اس حدیث نے فیصلہ فرمادیا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو زکوۃ لینا حرام ہے۔اَنَا جمع فرماکر تا قیامت اپنی اولاد کو شامل فرمالیا یہ ہی حق ہے اسی پر فتویٰ ہے ۔بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ حکم اس زمانہ میں تھا اب سید زکوۃ لے سکتے ہیں یا سید کی زکوۃ سید لے سکتے ہیں یہ تمام مرجوع قول ہیں،فتویٰ اس پر نہیں۔خیال رہے کہ بنی ہاشم سے مراد آل عباس، آل جعفر، آل عقیل، آل حارث ابن مطلب اور آل رسول ہیں،ابولہب کی مسلمان اولاد اگرچہ بنی ہاشم تو ہیں مگر یہ زکوۃ لے سکتے تھے اور لے سکتے ہیں کیونکہ زکوۃ کی حرمت کرامت و عزت کے لیے ہے،ابو لہب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء کی کوشش میں رہا اسی لیے وہ اور اس کی اولاد اس عظمت کی مستحق نہ ہوئی۔(ازلمعات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی ناسمجھ اولاد کو بھی ناجائز کام نہ کرنے دے،وہ دیکھو حضرت حسن اس وقت بہت ہی کمسن اور ناسمجھ تھے جیساکہ کخ کخ فرمانے سے معلوم ہورہا ہے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی زکوۃ کا چھوہارا نہ کھانے دیا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ ناسمجھ لڑکوں کو سونے چاندی کا زیور پہنانا حرام ہے۔اس مسئلہ کی ماخذ یہ حدیث بھی ہوسکتی ہے یہ قاعدہ بہت مفید ہے۔(مرقات)