Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
504 - 5479
حدیث نمبر 504
روایت ہے حضرت ابو سعید سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کون بندے اﷲ کے نزدیک افضل اور قیامت کے دن بلند درجے والے ہیں ۱؎ فرمایا اﷲ کا بہت ذکر کرنے والےاور بہت ذکر کرنے والی عورتیں ۲؎ عرض کیا گیا یارسول اﷲ اﷲ کی راہ کا غازی کون ہے۳؎ فرمایا اگر غازی مشرکین اور کفار پر تلوار اتنی چلائے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون میں رنگ جائے ۴؎ تب بھی اﷲ کا ذکر کرنے والا اس سے درجہ میں زیادہ ہوگا۵؎(احمد و ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎  سبحان اﷲ! کیسا پیارا اور جامع سوال ہے کہ ایسا بندہ کون ہے جس کا ثواب بھی زیادہ ہو اور قرب الٰہی بھی زیادہ۔ خیال رہے کہ ثواب اور ہے قرب و درجہ کچھ اور۔ اگر بادشاہ کسی موقع پر ایک سپاہی کو لاکھ روپیہ انعام دے دے اور وزیر کو کچھ نہ دے اس وقت اگرچہ انعام سپاہی نے پایا مگر درجہ وزیر ہی کا زیادہ ہے۔

 ۲؎ ذکر سے مراد زبان و دل کے سارے ہی ذکر ہیں خصوصًا وہ ذکر جو احادیث شریفہ میں مذکور ہیں کہ وہ دوسرے ذکروں سے بہتر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر اﷲ زیادتی ثواب کا بھی ذریعہ ہے اور زیادتی قر ب الٰہی کا بھی  وسیلہ، دین ودنیا کی نعمتیں ذکر اللہ سے ملتی ہیں ،زیادتی ذکر سے مراد ہے کہ اس کے اکثر اوقات ذکر میں گھیرے ہوں، دوسرے مشغلوں کے لئے بہت کم  وقت بچے ۔(مرقات ، لمعات)

 احادیث شریفہ میں مذکور ہیں کہ وہ دوسرے ذکروں سے بہتر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر اﷲ زیادتی ثواب کا بھی ذریعہ ہے اور زیادتی قرب الٰہی کا بھی وسیلہ،دین و دنیا کی نعمتیں ذکر اﷲ سے ملتی ہیں،زیادتی ذکر سے مراد ہے کہ اس کے اکثر اوقات ذکر میں گھرے ہوں دوسرے مشغلوں کے لیے بہت کم وقت بچے۔(مرقات و لمعات)

۳؎ بعض غازی غنیمت کے لیے بعض ملک جیتنے کی غرض سے بعض اپنی شجاعت دکھانے بعض اسلام پھیلانے کے لیے کفار پر جہاد کرتے ہیں ان سب میں فی سبیل اﷲ غازی کون ہے۔

۴؎ اس طرح کہ غازی اپنے خون میں لتھڑ جائے یعنی شہید ہوجائے۔خلاصہ یہ ہے کہ یہ شخص غازی بھی درجہ اول کا ہو اور شہید بھی اعلیٰ مرتبہ کا۔

 ۵؎ اس کی وجہ ظاہر کہ ذکر مقصودی عبادت ہے اور جہاد غیر مقصودی عبادت کیونکہ جہاد اﷲ کا ذکر پھیلانے ہی کے لیے تو ہوتا ہے،نیز جہاد ہے غازی کا کام اور ذکر اﷲ میں ہے اﷲ کا نام یقینًا رب تعالٰی کا نام ہمارے کام سے بہتر ہے نیز جہاد کی جزا ہے جنت اور ذکر اﷲ کی جزاء ہے ذکر عبدہ ۔رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"کہ یہاں درجہ سے مراد جنسی درجہ ہے نہ کہ شخصی درجہ یعنی ذاکر مجاہد سے بدرجہا بہتر ہے اشارۃً یہ بھی فرمایا گیا کہ بوقت جہاد غازی اﷲ کا ذکر کرتا رہے کوئی نماز حتی المقدور نہ چھوڑے ہاتھ میں تلوار زبان پر ذکر یا ر ہو پھر سبحان اﷲ کیا پوچھنا ہے۔
Flag Counter