۱؎ ظاہر یہ ہے کہ شیطان سے مراد قرین شیطان ہے۔ہر انسان کے ساتھ الگ الگ ایک شیطان رہتا ہے ابلیس مراد نہیں،وہ تو ان تمام شیاطین کا منتظم ہے یعنی شیطان کی منزل انسان کا دل ہے جہاں وہ ایسا چمٹا رہتا ہے جیسے شہد سے مکھی۔ خیال رہے کہ غافل کے دل پر شیطان کی منزل ہے،اور کافر کے دل میں شیطان کا گھر ہے،اس جگہ ابن آدم سے مراد غافل مسلمان ہے نہ کہ کافر جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ وسوسہ سے غفلت نہیں آتی بلکہ غفلت سے وسوسے آتے ہیں،لہذا ذکر اﷲ و سوسوں کا علاج ہے یہاں ذکر سے مراد مسلمان کا ذکر اﷲ ہے نہ کہ کافر کا، کافر کے دل میں سے شیطان تو ایمان سے نکلے گا،بغیر ایمان اگر سارا قرآن بھی پڑھ لے شیطان نہ نکلے گا۔کیونکہ مسافر کو منزل سے ہٹانا آسان ہے مگر کسی کو اس کے گھر سے نکلنا مشکل۔خلاصہ یہ ہے کہ مؤمن کا دل مالا مال گھر ہے شیطان چور ہے غفلت تاریکی ہے اور ذکر اللہ نور و روشنی۔ چور ہمیشہ اندھیرے میں آتا ہے،اجیالا ہوتا ہی بھاگ جاتا ہے،مؤمن کو چاہیئے کہ اپنے دل کے گھر میں ذکر اﷲ کا اجالا رکھے تاکہ اس چور سے امن رہے یوں تو ہر ذکر اﷲ دفع وسوسہ کے لیے مفید ہے،مگر لاحول شریف اور اذان دفع شیطان کے لیے اکسیر ہے،اسی لیے بعد دفن قبر پر اذان کہی جاتی ہے کہ مردے سے شیطان دور رہے اور اسے وسوسہ نہ دے تاکہ مردہ امتحا ن میں کامیاب ہو۔